قائمہ کمیٹی: لاپتا افراد معاملے پر صوبوں کے پولیس سربراہان اور داخلہ سیکرٹریز طلب

59

اسلام آباد (صباح نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین بلاول زرداری نے لاپتا افراد کے معاملے پروفاقی سیکرٹری داخلہ ، چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان اور ہوم سیکرٹریز کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔بلاول زرداری نے کہاہے کہ ریاست کو اس بات کا پتا چلنا چاہیے کہ لوگوں کو کیوں لاپتا کیا جاتا ہے کیاوجوہات ہیں، ذمے داران کو سزائیں کیوں نہیں ملتی۔ پارلیمنٹ قانون سازی کیوں نہ کرسکا، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اگر حکومت کامیابی کی دعویدار ہے تو بتایا جائے مقبوضہ کشمیر میں انسانی معاونت کیا ہوئی ہے۔ اگر بڑے بڑے اداروں کو خطوط لکھے گئے ہیں تو اس کا کشمیریوں کو کیا فائدہ ہوا کیا وہاں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء کی کوریڈور بن گئی ہے ، بڑی بڑی جنگوں میں بھی مقبوضہ علاقوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے وزارت خارجہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عالمی اداروں کو تحریری طورپر آگاہ نہ کیے جانے پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ مسئلہ کشمیر بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی ادویات اور خوراک کے حوالے سے معاونت کے ضمن میں وزارت خارجہ سے کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔دفتر خارجہ کے اسپیشل سیکرٹری اور متعلقہ ڈی جی نے روایتی بریفنگ کا سلسلہ شروع کیا تو شازیہ مری ، بلاول زرداری ،مہرین رزاق بھٹو اور دیگر ارکان نے کہاکہ یہ تو ہم میڈیا میں دیکھ اورپڑھ چکے ہیں حکومت اپنی کارکردگی بتائے۔ شازیہ مری نے کہاکہ کشمیریوں کی اصل مدد یہ ہوگی کہ انہیں ریلیف ملے۔ ہمیں بتایا جارہا ہے بڑے بڑے اداروں کو خطوط لکھے گئے، ان کا نتیجہ کیا نکلا۔ انہوں نے بتایا کہ بین الپارلیمانی یونین کے اجلاس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اسیروں بشمول یاسین ملک کی قید کا معاملہ اٹھایا اورکہاکہ بین الپارلیمانی یونین سیاسی بنیادوں پر قائم ہے، سیاسی مقدمات کا نوٹس لیناچاہیے۔ بلاول زرداری نے کہاکہ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی دونوں رپورٹس کے حوالے سے سنہری مواقع تھے دنیا سے بات کی جاتی کہ بھارت کو انسانی حقوق سے متعلق مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ان رپورٹس پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔ اخلاقی طورپر ہمیں آزاد کشمیر میں ان رپورٹس پر عملدرآمد شروع کردینا چاہیے تھا مگر ہم ایسا نہ کرسکے۔