حکومت جسٹس فائز کیخلاف ریفرنس واپس لے‘ پاکستان سپریم کورٹ بار

85

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار نے وفاقی حکومت سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس فوری واپس لیا جائے۔یہ اعلامیہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی اور صدر سپریم کورٹ بارسید قلب حسن کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر قانون نے عدلیہ کو تقسیم کرنے کیلیے بدنیتی پر مبنی ریفرنس تیار کیا تھا، اس ریفرنس کے عوامل اور محرکات مکمل طور پر قوم پر آشکار ہو چکے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ عدلیہ کو تقسیم کرنے میں ناکامی کے بعد اب وفاقی وزیرِ قانون وکلاء برادری کو تقسیم کرنے پر عمل پیرا ہیں، سابق اٹارنی جنرل کا ا ستعفا اور نئے اٹارنی جنرل کا ریفرنس میں پیش ہونے سے انکار سازش کو بے نقاب کر رہے ہیں۔وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق ان ججز میں لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے ایک، ایک جج بھی شامل تھے۔لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج فرخ عرفان چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کے دوران استعفا دے چکے ہیں اس لیے ان کا نام ریفرنس سے نکال دیا گیا ہے۔پہلے ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور کے کے آغا پر بیرون ملک جائداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔ صدارتی ریفرنسز پر سماعت کیلیے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون 2019 کو طلب کیا گیا تھا، اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی سماعت اختتام پذیر ہوچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جواب کا جواب الجواب کونسل کے اجلاس میں جمع کرا دیا ہے، کونسل اٹارنی جنرل کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کرے گی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کو کونسل نے خارج کردیا تھا۔خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی جانب سے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا گیا اور اس پر فل کورٹ سماعت کررہا ہے۔