بلوچستان اسمبلی: اپوزیشن کا کرپشن کی تحقیقات کیلیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

181

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کرپشن کے الزامات پر الجھ پڑے،اپوزیشن نے وزراء کی کرپشن کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا، متعدد بار کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی بھی کرنا پڑا۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا تو رکن اسمبلی جان جمالی نے کورم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس تاخیر سے شروع ہوتے ہیں اور ارکان بھی شریک نہیں ہوتے۔اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو وزراء کی عدم حاضری پر اسپیکر نے برہمی کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن نے صوبائی حکومت پر کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزراء سیکرٹریز اور افسران سے پیسے مانگتے ہیں۔اپوزیشن رکن ثناء بلوچ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں کرپشن سے متعلق کمیشن قائم کیا جائے جبکہ کرپشن سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔اپوزیشن کے الزامات پر حکومتی ارکان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن حکومت پر الزام تراشی نہ کرے بلکہ ثبوت پیش کرے۔ صوبائی وزیرعبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ اپوزیشن کرپشن کے ثبوت اور پیسے لینے والے وزراء کا نام سامنے لائے، اگر کرپشن ثابت ہوئی تو وزارت سمیت اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی پوائنٹ اسکورننگ نہ کرے، صرف ایک روزمیں سب کچھ ٹھیک کردینا فلموں میں ہی اچھا لگتاہے۔علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ ، ملک نصیر شاہوانی ، ثناء بلوچ ودیگر نے بلوچستان اسمبلی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے (آج) جمعہ کو اپوزیشن ارکان کی جانب سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے علامتی جبکہ 19مارچ کو ہزاروں کارکنوں سمیت عوامی دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے مسئلے پر کوئی پالیسی ابھی تک واضح نہیں کی جاسکی ہے ، حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ، عوام کو ریلیف دلانے تک اپوزیشن چین سے نہیں بیٹھے گی ، وزیراعلیٰ بلوچستان کے طیارے سے متعلق سوال کا جواب دیا جا نا تھا بلکہ سی پیک کے حوالے سے بڑے بڑے شادیانے اور کانفرنس پر بلوچستان کے ڈیڑھ ارب روپے لگائے جا نے سے متعلق سوا لات کے جوابات دینے کے بجائے حکومتی ارکان نے کورم کی نشاندہی کراکر راہ فرار اختیار کرلی۔بلوچستان اسمبلی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس وقت کورونا وائرس عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور ڈبلیو ایچ او سمیت پوری دنیا اس سے نمٹنے کے لیے پریشان ہے جبکہ بلوچستان میں حالت یہ ہے کہ یہاں 27کروڑروپے کی غیر معیا ری ادویات لوگوں کو دی جارہی ہیں جس سے بلوچستان میں حکمرانی کی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،اسی طرح متحدہ اپوزیشن نے میرٹ کی پامالی ہو ، پارلیمنٹ کی پالیسی ہو یا پھر کرپشن ہو نشاندہی کی ہے مگر اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،جس پر مجبوراً ہمیں سڑکوں پر نکلنا پڑر ہا ہے،متحدہ اپوزیشن میں شامل جما عتوں کے ارکان اسمبلی نے ایک بار پھر(آج)جمعہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے صبح 11بجے سے ایک بجے تک علا متی دھرنے کا فیصلہ کیا ہے اورمارچ کے مہینے میں عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کو وسعت دی جا ئے گی ۔