کسی جج یا وکیل کی جاسوسی کی نہ ہوگی‘ بیرسٹر فروغ نسیم

71

اسلام آباد ( آن لائن )وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کسی جج یا وکیل کی جاسوسی نہیں ہوئی نہ ہو رہی ہے اور نہ ہو گی۔اسلام آباد میں فیڈرل لا یونیورسٹی ہونی چاہیے جس کے کیمپس چاروں صوبوں کے بڑے شہروں میں ہوں،ہمارے ذہن میں ہے کہ اسلام آباد بار کونسل سے منسلک کر کے لاء یونیورسٹی بنائی جائے، وکالت مقدس پیشہ ہے ،بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی وکیل تھے، سابق امریکی صدر باراک اوباما کا تعلق بھی شعبہ وکالت سے ہے، وکلا کی ویلفیئر اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ہر کام کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزاسلام آباد بار کونسل کے تحت وکلا ء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ججز بے خوف ہو کر انصاف کی فراہمی کریں، جس معاشرے میں انصاف ہو رہا ہوتا ہے وہ معاشرہ کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا ،اسلام آباد کے وکلاء1980ء سے جدوجہد کر رہے ہیں، اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت اور اہم ترین شہر ہے یہاں کی عدالتوں کا نظام بھی بہتر ہونا چاہیے ،اسلام آباد کی عدالتوں میں انصاف کا حصول تیزی سے مل سکتا ہے ،کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، نوجوان وکلاء پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے، کبھی کوئی فراڈ یا جعل سازی نہیں کرنی،نیک نامی محنت سے کمائی جاتی ہے، وکالت کا پیشہ بہت مقدس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار کونسل کا سیکرٹریٹ عدالت عظمیٰ کے قریب ریڈ زون میں ہونا چاہیے،اسلام آباد ہائی کورٹ اسی سال شاہراہ دستور پر نئی بلڈنگ میں شفٹ ہو جائے گی،ا سلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد کم از کم 15 ہونی چاہیے ، تمام ججز کی تعیناتی کوٹا سسٹم کے بجائے صرف میرٹ پر ہونی چاہیے،صوبائی تعصب کو ختم ہونا چاہیے ،پنجاب میں یہ تعصب ختم ہو چکا ہے، لاہور ہائیکورٹ کا جج اگر کراچی شفٹ ہو تو اسے سندھ ہائی کورٹ بھی بھجوایا جاسکے،انگریز کے جس سوا100 برس پرانے قانون پر ہم چل رہے ہیں وہ خود اس میں کتنی بار ترامیم کر چکا، ہمیں بھی خود کو جدت میں ڈھالنا ہو گا۔