مودی کی نرالی منطق پر ٹرمپ کا صدقے جانا

372

عین اس روز جب دارالحکومت دلی میں مسلمانوں کے خلاف خونریز فسادات کی آگ بھڑکی ہوئی تھی، صدر ٹرمپ نے اپنے دو روزہ دورے سے راونگی سے قبل ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے ہندوستان میں مذہبی آزادی پر کئی گھنٹے تک تفصیل سے بات چیت کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے بارے میں مودی نے بڑا طاقت ور جواب دیا۔ ٹرمپ کے مطابق مودی کا جواب تھا کہ ہندوستان میں مکمل مذہبی آزادی ہے جب ہی تو مسلمانوں کی آبادی پچھلے چند برسوں میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے بڑھ کر بیس کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ نریندر مودی نے بھی اس بارے میں غلط اعدادو شمار پیش کیے ہیں۔ 1951کی مردم شماری میں مسلمانوں کی تعداد تین کروڑ پچاس لاکھ تھی جو اب انیس کروڑ پچاس لاکھ ہے۔
ٹرمپ سے ہندوستان کے شہریت کے قانون میں متنازع ترمیم کے بارے میں دو بار سوال کیے گئے جس پر پچھلے تین مہینے سے پورے ہندوستان میں احتجاج کی آگ بھڑکی ہوئی ہے اور دلی میں مسلمانوں کے خلاف خونریز فسادات ہورہے ہیں جن میں ہلاک ہونے والوں کے تعداد 23تک پہنچ گئی ہے ٹرمپ نے مصلحتاً کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے اور بلا شبہ ہندوستان کی حکومت عوام کے بارے میں صحیح فیصلہ کرے گی۔ شہریت کے مسئلہ پر ٹرمپ بھی امریکا میں سخت اڑدھپ میں ہیں جہاں انہوں نے مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلہ پر پابندی عاید کر رکھی ہے، جسے مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی امتیازی پالیسی قرار دیا جارہا ہے۔
ایک امریکی صحافی نے جب ٹرمپ کی توجہ دلی کے فسادات کی طرف مبذول کرائی جن میں شہریت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں پر حملے کیے جارہے ہیں اور پوچھا کہ آیا اس بارے میں نریندر مودی سے بات ہوئی ہے تو ٹرمپ مکر گئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے مودی سے مذہبی آزادی پر بات کی ہے جہاں تک دلی کے حملوں کا تعلق ہے میں نے اس بارے میں سنا ہے لیکن میں نے اس بارے میں مودی سے بات نہیں کی کیونکہ یہ معاملہ ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے مودی کی تعریف میں وہی راگ الاپے جو ہندوستان کے دورے پر آتے ہی انہوں الاپنا شروع کر دیے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خوش کرنے کے لیے انہوں نے پھر ایک بار کشمیر کے تنازعے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مصالحت کی پیش کش کی۔ یہ پیش کش یکسر بے معنی ہے کیونکہ ٹرمپ کو معلوم ہے کہ مودی اس کے لیے کسی طور تیار نہیں ہوں گے۔ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اس بارے میں ایک لفظ نہیں کہا کہ آیا انہوں نے کشمیر کے تنازعے پر مصالحت کے بارے میں مودی سے کوئی بات کی ہے؟ پاکستان کو اس موقع پر خوش کرنے میں ٹرمپ کی مصلحت یہ ہے کہ ٹرمپ صدارتی انتخاب کی حکمت عملی کے پیش نظر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے بے تاب ہیں اور اس مسئلے میں پاکستان کی مدد اشد ضروری ہے۔ انہیں احساس ہے کہ افغانستان میں طالبان سے صلح کے مذاکرات میں پاکستان نے اہم رول ادا کیا ہے اور افغانستان میں آئندہ امن کے حصول میں بھی پاکستان کی امداد درکار رہے گی۔ مبصرین نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے کشمیر کے تنازعے میں مصالحت کی تو زبانی بات کی ہے لیکن اس دو روزہ دورے میں ایک لفظ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال اور وہاں مکمل تالا بندی کے بارے میں نہیں کہا۔ حالانکہ یہ معاملہ امریکی میڈیا اور امریکی کانگریس میں نمایاں رہا ہے۔ یہ بات واضح تھی کہ ٹرمپ اس موقع پر مودی کی پالیسی پر نکتہ چینی کرنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ پریس کانفرنس کے شروع ہی میں کہہ چکے تھے کہ وہ کوئی متنازع بات نہیں کریں گے اور اس دورے میں کھنڈت نہیں ڈالیں گے۔
ٹرمپ اس وقت بھڑک گئے جب CNN کے صحافی جم اکوسٹا نے سوال کیا کہ آیا وہ صدارتی انتخاب میں غیر ملکی مداخلت مسترد کرنے کا پیمان کریں گے۔ وجہ ٹرمپ کی ناراضی کی یہ تھی کہ ٹرمپ کا ہندوستان کے دورے کا اصل مقصد اپنی انتخابی مہم میں امریکا میں رہنے والے ہندوستانیوں کی مالی امداد اور ووٹ حاصل کرنا ہے۔ اور نریندر مودی کھلم کھلا ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھر پورمدد دینے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔ اور در اصل یہی وجہ ہے کہ دلی میں مسلمانوں کے خلاف خونریز فسادات کے بارے میں ٹرمپ نے خاموشی اختیار کی ہے اور ہندوستان میں مذہبی آزادی کے بارے میں مودی کی نرالی منطق پر ٹرمپ صدقے جارہے ہیں۔ گو مودی، ٹرمپ کے اس دورے میں وہ تجارتی سمجھوتا حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس پر پچھلے تین سال سے مذاکرات جاری ہیں لیکن ٹرمپ اپنے اس دورے کے مقاصد میں خاصے کامیاب رہے ہیں۔ وہ امریکا کے تین ارب ڈالر کی مالیت کے ہیلی کاپٹر ہندوستان کو بیچنے کا سودا طے کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ علاوہ ازیں چین کے خلاف محاذ کو تقویت دینے کے اقدامات پر بھی اتفاق رائے رہا ہے۔ اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں ہندوستان کے رول پر بھی سمجھوتا طے پاگیا ہے جس کا مقصد افغانستان میں پاکستان کے اثر و نفوذ کو روکنا ہے اور عملی طور پر پورے برصغیر میں ہندوستان کی چودھراہٹ مسلط کرنا ہے۔