شامی مزاحمت کاروں نے اہم شہر واپس لے لیا

119

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے لیے برسرپیکار حزب اختلاف نے اسدی فوج کو اہم شہر سے نکال دیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق شامی مزاحمت کاروں نے جمعرات کے روز حلب دمشق ہائی وے ’’ایم 5‘‘ اور حلب لاذقیہ ہائی وے ’’ایم 4‘‘ پر دوبارہ قبضہ کرکے صوبہ ادلب کے اہم تزویراتی شہر سراقب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا۔ یاد رہے اسدی فوج نے رواں ماہ کی 6 تاریخ کو اس اہم شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ شہر 2011ء میں اسدی فوج کے ہاتھ سے نکلا تھا۔ اس شہر کے قبضے کو اسدی فوج کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی مزاحمت کاروں نے اعلان کیا ہے کہ ترنبہ اور شابور قصبے آزاد کرانے سے علاقے میں قائم تُرک چوکیاں جو اسدی فوج کے محاصرے میں آگئی تھیں، ان کا محاصرہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ مزاحمت کاروں کی اس پیش قدمی سے اسدی فوج کے ساتھ اس کی حلیف روسی فوج بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔ روسی فضائیہ نے علاقے میں بم باری شروع کردی، تاکہ مزاحمت کاروں کی پیش قدمی کو روکا اور فرار ہونے والے اسدی فوجیوں کو بچایا جاسکے۔ اس دوران بنش قصبے پر روسی بم باری سے 6 شہری بھی شہید ہوگئے، جب کہ علاقے میںموجود 2 تُرک فوجی جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔ تُرک وزارت دفاع کے مطابق جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ادلب میں موجود تُرک فوج پر فضائی حملہ کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں 2 تُرک فوجی شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوابی کاروائی میں اسد انتظامیہ کے ایک ائر ڈیفنس میزائل سسٹم، ایک اینٹی ائر کرافٹ، ایک اینٹی ٹینک کرافٹ، 3 ٹینکوں، ایک ایمونیشن کی گاڑی اور 2 تعمیراتی گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا، جب کہ 3 ٹینکوں کو تحویل میں لینے کے ساتھ 114 فوجیوں کو غیرمؤثر کردیا گیا۔ واضح رہے کہ تُرک صدر رجب طیب اردون نے کہا ہے کہ تُرک فوج ادلب میں اپنی چوکیوں سے اسدی فوج کو رواں ہفتے پسپا کر دے گی۔ اردوان کا یہ بیان بدھ کے روز سامنے آیا۔
ادلب: شامی مزاحمت کار اہم شہر سراقب سے اسدی فوج کو پسپا کرنے کے بعد چوک پر انقلاب کا پرچم لہرا اور جشن منا رہے ہیں