کورونا سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے‘ سراج الحق

744
لوئردیر: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق تقریب سیرت البنیؐ سے خطاب کررہے ہیں

دیر پائیں (نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کورونا وائرس سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اللہ سے اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت ہے ۔ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے آج پورے ملک میں کورونا کا خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ چین میں 2 ماہ سے کورونا وائرس سے اموات ہورہی تھیں ، مگر حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور اس وبا سے بچائو کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ ہمارا سیکڑوں کلو میٹر بارڈر ملتاہے ۔ دونوں ممالک میں کورونا کے کیسز سامنے آنے کے باوجود ان بارڈر ز پر اسکریننگ کا انتظام کیا گیا نہ اس کے سدباب کی کوئی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے یہ وبا پاکستان میں بھی داخل ہوگئی ۔او آئی سی بھارت کا معاشی بائیکاٹ کرے اور مسلمانوں سمیت بھارتی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی جائے۔ ملک نااہل اور نالائق حکمرانوں کے ہتھے چڑھ گیاہے ۔ کل کے حکمران ہوں یا آج کے ،کسی نے بھی پاکستان کے نظریے سے وفا نہیں کی جس کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا اور باقی ماندہ مسائل کی آماجگاہ بنا ہواہے ۔حکمران ہماری غیرت ، عزت اور وقار کی حفاظت نہیں کر سکے ۔ وزیراعظم اپنے بیرونی دوروں میں پوری قوم کو کرپٹ اور چور قرار دے کر سلطانی گواہ بن جاتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے تیمر گرہ میں جے آئی یوتھ کے زیراہتمام سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے صدر جے آئی یوتھ زبیر گوندل نے بھی خطاب کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت عالمی صہیونی اداروں اور این جی اوز کی سرپرستی سے ملک میں ایسے پروگرامات متعارف کرا رہی ہے جن کا مقصد قوم کو بھکاری بنانااور نوجوانوں کو کاہلی ، سستی اور مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلنا ہے ۔ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے تاکہ آنے والی نسلیں آئی ایم ایف کی اسیررہیں ۔ حکمران چاہتے ہیں کہ نوجوان روزگار مانگنے کے بجائے قطاروں میں لگ کر مفت کا کھائیں اور پناہ گاہوں میں پڑکر سو تے رہیں ۔ یہ پوری قوم کو مفت خور اور نکما بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اس سے بہتری نہیں بلکہ زیادہ ابتری پھیلے گی اس لیے نوجوانوں کو اسوہ ٔ رسول ؐ پر عمل کرتے ہوئے محنت مزدوری کر کے اپنی عزت و وقار کو برقرار رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان بھوکے رہ کر تو گزارا کر لیں گے مگر ہاتھ پھیلانے کی ذلت گوارا نہیں کریں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عالمی سامراج کے غلام حکمران ہمارے مدارس اور مساجد کو دہشت گردی کے مراکز قرار دے کر انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں ۔ یہ بزدل حکمران کفر کی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہونے کے بجائے ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ شیر دل قوم کی قیادت گیدڑوں کے ہاتھ میں آگئی ہے ۔ یہ انگریز کی غلامی کا حق ادا کر رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھی صرف حکمرانی کے لیے ملک میں آتے ہیں ۔ ان کی اولادیں اور کاروبار امریکا اور برطانیہ میں ہیں ۔ یہ قوم کو علاقائی اور مسلکی تعصبات کی بنیاد پر تقسیم کر کے ملک پر مسلط ہو جاتے ہیں اور پھر قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں ۔ان حکمرانوں کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے ۔