(کورونا کا خوف) ٹی بی 15لاکھ‘ نمونیا10لاکھ‘ فلو6.5لاکھ اور ڈائریا سے سالانہ5.5لاکھ ہلاکتیں

800

کراچی (رپورٹ مسعود انور) دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے ۔ کورونا وائرس کا نام آتے ہی ایسا لگتا ہے کہ فضا میں ہر طرف موت گھات لگائے گھوم رہی ہے اور جسے کورونا کا انفیکشن ہوگیا تو اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ کورونا وائرس سے اب تک ہونے والی اموات نے تین ہزار کا ہندسہ بھی نہیں عبور کیاہے اور اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد مرنے کی شرح 2 فیصد ہے ۔ مرنے والے یہ 2 فیصد افراد بھی وہ ہیں جو یا تو عمر رسیدہ تھے یا پھر انہیں سانس کی پہلے سے بیماری تھی ۔ اس کے مقابلے میں دنیا میںدرجنوں ایسی متعدی بیماریاں موجود ہیں جو ہر برس لاکھوں افراد کی جانیں لے لیتی ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر کورونا وائرس کے نام پر تو کروڑوں افراد کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کا لاک ڈاؤن کردیا گیا ۔ ان کی سرحدیں ہر طرف سے بند اور ان سے تجارت پر پابندی عاید کر دی گئی ۔ اسی طرح کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ تو ایڈز کے مریضوں کے ساتھ بھی نہیں کیا گیا ۔ یوکرائن میں چینی شہر ووہان سے آنے والے یوکرائنی باشندوں کی بس پر اس لیے پتھراؤ کیا گیا کہ لوگوں کو شبہ تھا کہ ان کے آنے سے یوکرین میں بھی کورونا پھیل جائے گا ۔ حالانکہ مذکورہ بس میں سوار افراد کو چیک اپ کے لیے قرنطینہ لے جایا جارہا تھا ۔ جسارت نے قارئین کی معلومات کے لیے چند ایسی متعدی بیماریوں کے بارے میں اعداد و شمار عالمی ادارہ صحت سے اکٹھے کیے ہیں جوکورونا کی طرح چھونے سے لگنے والی بیماریاں ہیں ۔ موسمی فلو کا وائرس بھی کورونا کی طرح دوسرے شخص کو لگنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ نصف کروڑ افراد اس بیماری کا ہر برس نشانہ بنتے ہیں جبکہ سالانہ مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ ہے ۔ٹی بی سے ہر برس ایک کروڑ افراد بیمار ہوتے ہیں جن میں سے 15 لاکھ افراد جان سے جاتے ہیں ۔ڈائریا کے سبب ہر برس ایک ارب 70 کروڑ افراد بیمار ہوتے ہیں جس میں سے ساڑھے پانچ لاکھ مرجاتے ہیں ۔نمونیا سے ہر برس دس لاکھ سے زاید اموات ہوتی ہیں جس میں اکثریت بچوں کی ہے ۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 15 فیصد اموات کی وجہ نمونیہ ہی ہے۔ملیریا سے ہر برس 23 کروڑ افراد بیمار ہوتے ہیں جس میں سے پانچ لاکھ کے قریب افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ خسرہ سے سالانہ مرنے والوں کی تعداد تقریبا ڈیڑھ لاکھ ہے۔ ہیضے سے ہر برس چالیس لاکھ متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ڈیڑھ لاکھ افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ایڈز سے اب تک چار کروڑ افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے ساڑھے تین کروڑ افراد مرچکے ہیں ۔ ڈینگی سے سالانہ متاثر ہونے والوں کی تعداد چالیس کروڑ کے قریب ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی نصف آبادی کو ڈینگی سے خطرات لاحق ہیں ۔ہیپاٹائٹس اے ، بی اور سی سے ہونے والی اموات بھی دنیا بھر میں لمحہ فکر ہیں ۔ صرف پاکستان میں ہی ڈیڑھ کروڑ افراد اس سے متاثر ہیں ۔ان سب باتوں کے ساتھ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دنیا بھر کے درجن سے زیادہ ممالک میں براہ راست امریکی بمباری کے نتیجے میں کورونا سے زیادہ ہلاکتیں ہوجاتی ہیں اور کہیں سے آواز تک نہیں اٹھتی۔