کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی احتجاج

116

اسلام آباد(آن لائن )بھارتی سفارتخانے کے سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کیاگیا اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے25 فروری 2020 کو لائن آف کنٹرول کے نیزہ پیر سیکٹرمیں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اس کے نتیجے میں بے گناہ 40 سالہ محمد بشیر ولد ذر دین سکنہ گاوں مندھر کے شدید زخمی ہونے پر احتجاج کیا گیا۔ بھارتی قابض افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر عام شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری وخودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوںمیں اضافے کا یہ غیر معمولی سلسلہ 2017ء سے اب تک جاری ہے۔ 2017میں جنگ بندی کی 1970 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی جبکہ رواں سال اب تک 384 مرتبہ بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرچکا ہے۔ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا
انتہائی افسوسناک، انسانی عظمت ووقار، بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کے برعکس اور ان کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں علاقائی امن وسلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور کسی اسٹرٹیجک حادثہ کا باعث بن سکتی ہیں۔ پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003 کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے ، ایل اوسی اورورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے۔ زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔