قنبر علی خان، دہرے قتل کے دو ملزمان کی سزا کالعدم

129

قنبر علی خان (نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ نے دہرے قتل کے الزام میں سیشن کورٹ سے عمر قید کی سزا پانے والے دو ملزمان کی سزا کالعدم قرار دے کر انہیں فوری طور پر آزاد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ دو بھائیوں صحبت علی اور غلام علی ولد محمود سولنگی ساکن کشمور جن پر مورخہ 17 اکتوبر 2002ء کو دو افراد دین محمد سولنگی اور ان کی زوجہ کرم خاتون کو رشتے داری کے تنازع پر قتل کرنے کا الزام تھا اور اس سلسلے میں ایڈیشنل سیشن جج کشمور کی عدالت نے مورخہ 28 جون 2012ء کو ملزمان صحبت علی اور غلام علی کو دو افراد کے قتل کے الزام میں عمر قید اور چار لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا تھا جبکہ سزا پانے والے ملزمان نے ہائی کورٹ آف سندھ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ میں اپنی اس سزا کیخلاف اپیل دائر کی تھی۔ اس سلسلے میں ہائی کورٹ لاڑکانہ کے جسٹس مسٹر شمس الدین عباسی نے ملزمان کے وکیل نوراللہ رند کے تمام دلیل سننے کے بعد دہرے قتل کا جرم ثابت نہ ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج کشمور کی طرف سے دی گئی، عمر قید اور چار لاکھ روپے جرم کی سزا کالعدم قرار دے کر پابند سلاسل صحبت علی اور غلام علی سولنگی کو فوری طور پر آزاد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔