روسی ہٹ دھرمی ،ادلب میں جنگ بندی مسترد کردی

150

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے صوبے ادلب میں بشارالاسد کی فوج اور حزب اختلاف کے مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اس تناظر میں ترکی جنگ بندی کی کوشش کررہا ہے، تاہم اسد حکومت کے حلیف روس نے یہ تجویز مسترد کردی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے جنیو ا میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران کہا ہے کہ روس جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتا ہے۔ لاروف نے اقو ام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب میں ادلب کی صورت حال کو المیہ قرار دینے کے بجائے کہا کہ یہ کوئی انسانی حقوق کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور ان کی کارروائیوں کے لیے انعام سے نوازنے کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب تُرک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ہماری واحد خواہش شامی شہریوں کا اپنی سر زمین پر امن و امان کے ماحول میں زندگی بسر کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی حکمراں جماعت انصاف وترقی پارٹی کے کے پارلیمانی گروپ سے خطاب میں ادلب کی تازہ پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانی بحران کا سد باب کرنے کے لیے علاقے میں فعال مداخلت سمیت ہر اقدام کیا جائے گا۔ ہمارے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہ ہونا ہے۔ ہم عن قریب اس مسئلے کا بھی حل نکال لیں گے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ادلب میں ترکی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر غور کررہے ہیں۔ ادلب کی پیش رفت کا ذکر کرنے والے پومپیو نے کہا کہ اسدی فوج کے حملے ہمارے نیٹو میں اتحادی ملک ترکی کے ساتھ جھڑپوں کے خطرات کو شہ دے رہے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2254 نمبر کی قرار داد کے مطابق مستقل جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قیادت میں مذاکرات لازمی ہیں، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ ترکی کے ساتھ مل کر کیا کچھ کر سکنے کا جائزہ لینے کے لیے ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔ ادھر شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق شام میں بم باری سے مزید 23 شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ادلب میں منگل کے روز کم از کم 19 شہری مارے گئے، جب کہ بدھ کے روز مزید 4 شہری لقمہ اجل بنے۔ اسدی فوج کے فضائی حملوں اور بھاری توپوں سے گولہ باری سے مارے جانے والوں میں 8 بچے بھی شامل ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ آج کے حملے اس بات کا ایک اور ثبوت ہیں کہ شمال مغربی شام میں بچوں اور شہریوں کے خلاف تشدد تباہ کن سطح تک پہنچ چکی ہے۔
ادلب: شہری دفاع کے رضاکار رہایشی علاقے میں گرنے والا ناکارہ میزائل اٹھا رہے ہیں‘ بم باری سے زمین میں گڑھا پڑ گیا ہے