وزیراعظم پر واضح کردیا تھا جسٹس فائز کیس میں حکومت کا دفاع نہیں کرونگا‘ اٹارنی جنرل

144

اسلام آباد(آن لائن)اٹارنی جنرل آٖف پاکستان خالد جاوید نے کہا ہے کہ وزیرعظم کو واضح کر دیا کہ جسٹس عیسیٰ کیس میں حکومتی دفاع نہیں کروں گا،ذوالفقار بھٹو ریفرنس و مشرف غداری کیس کی دیانتداری کے ساتھ عدالتی معاونت کروں گا،جسٹس وقار سیٹھ کیخلاف ریفرنس دائر ہونے سے متعلق لاعلم ہوں، ریکوڈک کیس ہماری معاشی بقا کا مقدمہ ہے،کوشش ہے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے،کسی سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں صرف عدلیہ و حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے ذمے داری قبول کی ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن آفس کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اٹارنی جنرل کو کہنا تھا کہ وزیر اعظم سے ملاقات میں واضح کہا جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں حکومتی دفاع نہیں کروں گا،میرا سیاسی پس منظر ضرور ہے لیکن میری کسی سے سیاسی وابستگی نہیں،وزیر اعظم کی ترجیحات میں پاکستان کیخلاف چلنے والے بین الاقوامی مقدمات ہیں۔انہوں نے ریکوڈک مقدمے پر بات کرتے ہوئے کہا ریکوڈک پاکستان کی معاشی بقا کا مقدمہ ہے،یہ بڑا مشکل مقدمہ ہے،یہ مقدمہ پاکستان کی معیشت کے لیے خطرناک ہوگا،ہماری کوشش ہے ریکوڈک کیس کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آئے۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرے والد کیخلاف کوئی مقدمہ آجائے تو میں وہاں بھی رعایت نہیں کروں گا،ذوالفقار علی بھٹو کیس ہو یا پرویز مشرف کا مقدمہ ہو دیانت داری کیساتھ عدالتی معاونت کروں گا۔کسی مقدمے کو طویل کرنے یا دبانے کے حق میں نہیں ،میں نے وزیر اعظم کو جن زیر سماعت مقدمات کی ترجیح بنیاد پر سماعت کے بارے میں فہرست دی ہے ان میں حراستی مراکز کا مقدمہ بھی شامل ہے۔وزیر قانون فروغ نسیم کیساتھ آرام دہ ہوں۔اٹارنی جنرل نے کہا عدلیہ او ر حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کروں گا،مجھے ایک درخواست گزار کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بطور وکیل پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا، ریکورڈ کیس میں پاکستان مشکل صورت سے دوچار ہے،ہر زیر سماعت مقدمے میں آزاد ذہن استعمال کرکے عدالتی معاونت کروں گا۔عدالت عظمیٰ میں ہر دستاویز اٹارنی جنرل کے ذریعے دائر ہوگی۔