’’ عالم جج‘‘کی عدم دستیابی،شریعت کورٹ میں مقدمات التوا کا شکار

265

اسلام آباد( آن لائن ) شریعت کورٹ اسلام آباد میں ’’ عالم ‘‘ جج نہ ہونے کی وجہ سے سیکڑوں اہم مقدمات زیر التوا ہیں ، سائلین مقدمات کے فیصلے کے لیے شریعت کورٹ سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ عالم جج نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات سماعت کے لیے مقرر نہیں کیے جاسکتے ۔ عالم جج ڈاکٹر فدامحمد خان کی وفات کی وجہ سے خالی ہونے والی پوسٹ پر تاحال تعیناتی نہیں ہوسکی ۔ تفصیلات کے مطابق بہت سے اہم مقدمات جن کے فیصلے مختلف عدالتوں سے ہوچکے ہوتے ہیں کے سائلین سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلے اسلام اور آئین پاکستان سے متصادم ہیں وہ شریعت کورٹ سے رجوع کرتے ہیں تاکہ عدالت اسلام کی روشنی میں ان مقدمات کے فیصلے کرسکے۔ ان اہم مقدمات میں فیملی ، سوارااور بچوں کی کفالت کے حوالے سے کیسز ہیں ۔ڈاکٹر فدا محمد خان کی شریعت کورٹ میں بطور عالم جج 2011 ء میں تعیناتی عمل میں لائی گئی 2014ء سے 2015ء تک وہ شریعت کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رہے، 20ستمبر 2019ء سے اپنی وفات تک وہ شریعت کورٹ کے بطور عالم جج تعینات رہے، حکومت پاکستان ان کی مدت ملازمت میں توسیع کرتی رہی ان کی وفات کے بعد ابھی تک شریعت کورٹ عالم جج تعینات نہیں کرسکی۔