ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار اور تین کردار

213

 آج کی دنیا اور بین الاقوامی نظام تضادات کا مجموعہ اور ملغوبہ ہے۔ اس میں کچھ اصطلاحات کی مثال اردو کے محاورے ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘‘ کی ہے۔ انسانی حقوق کی اصطلاح کا ایک مقام پر ایک مفہوم ہوتا ہے اور دوسرے مقام پر یہ معانی کلی طور پر بدل جاتا ہے۔ بالکل یہی حال دہشت گردی کی اصطلاح کا ہے۔ ایک جگہ یہ عمل غنڈہ گردی قرار پاتا ہے اور دوسرے مقام پر اسی کو دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ گویا کہ ان اصطلاحات کے دو مفہوم، انہیں ماپنے کے دو پیمانے اور دیکھنے کی دو عینکیں ہیں۔ یہ اصطلاحات سیاست کی ملمع کاری سے آراستہ اور مزین ہیں۔ انسان بھی وہی ہوتے ہیں ان کے حقوق بھی بین الاقوامی قانون کے تحت وہی ہوتے ہیں مگر جب ان حقوق کی خلاف ورزی ہوتی تو پھر چہرے مہرے اور وضع قطع اور نام ونسب دیکھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ کہیں بین الاقوامی قانون حرکت میں آتا ہے۔ رات کی رات قراردادیں پاس ہوتی ہیں اور کارروائی کا آغاز ہوجاتا ہے کہیں انسان مچھر مکھیوں سے بھی کم تر حیثیت کے حامل ہوتے ہیں مگر بین الاقوامی قانون خواب خرگوش کے مزے لیتا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاس فورس (ایف اے ٹی ایف) بھی دوہراے کردار اور میعار اور ذومعنی اصطلاحات کا حامل ایک ادارہ ہے۔ فی زمانہ یہ ادارہ معتوب ملکوں کی کلائی مروڑنے کا ایک نیا انداز ہے۔ ناپسندیدہ ملکوں کو بدنامی کا چلتا پھرتا اشتہار بنانا ہو تو ایف اے ٹی ایف ان پر بلیک لسٹ ہونے کا اسٹکر چسپاں کردیتا ہے۔
پاکستان کے بیتے ہوئے دو عشرے بہت کڑے اور سخت گزرے ہیں۔ اس عرصے میں پاکستان کے پہلو میں ایک ’’گریٹ گیم‘‘ جاری رہی۔ افغانستان اس خونیں کھیل کا میدان تھا۔ اس عرصے میں پاکستان کو دہشت گردی کے نام پر دنیا بھر میں بدنامی کا اشتہار بنا کر رکھ دیا گیا۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب امریکا کے شہرہ آفاق میگزین ’’نیوویک‘‘ نے اپنی ٹائٹل اسٹوری میں پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان اس دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا۔ کچھ عالمی مہربانیاں بھی تھیں کچھ ہر دور اور تاریخ کے ہر موڑ پر ناقص پالیسیوں کی صورت ’’تجربات‘‘ اور ’’ایجادات‘‘ کی ہماری آتش شوق بھی مسلسل بھڑکتی رہی ہے کہ جو پاکستان کو دنیا میں یکا وتنہا کرنے کا باعث بنتی رہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ بدنامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا راستہ اپنایا۔ شمالی کوریا اور ایران کی طرح پاکستان کوایف اے ٹی ایف کے رے ڈار پر ڈالنے کے ا س فیصلے کے پیچھے سیاسی مقاصد کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ یہ خیریت گزری کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا گیا۔ اب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اور بھارت اسے مسلسل بلیک لسٹ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بلیک لسٹ کا معاملہ تو اب ختم ہو گیا ہے کہ مگر گرے لسٹ سے نکلنے میں اور کتنا وقت لگے گا؟ یہ سوال اہم ہے۔
ایف اے ٹی ایف میں چھ ماہ بعد دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کے معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پاکستان اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اپنے فیصلوں سے دنیا کو آگا ہ کرتا ہے اور یوں یہ موقف سننے کے بعد فورم کے رکن ممالک ’’ڈومور‘‘ کی ایک اور فہرست تھما کر پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہیں۔ اب پیرس اجلاس میں پاکستان کے اقدامات کی تعریف کرنے کے باوجود اسے اگلے چار ماہ تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیرس اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے ستائیس میں سے چودہ نکات پر اچھی پیش رفت کی ہے اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو انتالیس میں سے بارہ ووٹ درکار تھے جو ظاہر ہے حاصل نہیں ہو سکے ہوں گے۔ جس کے بعد اگلے چار ماہ کے لیے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کے لیے اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ بھارت کی کوشش اور دبائو کے باوجود اسے بلیک لسٹ نہیں کیا گیا اور بھارت کا اطمینان یہی ہے کہ پاکستان کے سر پر بدستور ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس طرح موجودہ صورت حال میں
یہ ’’وِن وِن‘‘ یعنی سب کی جیت کا گول مول سا انداز ہے۔ بھارت نے اس اجلاس میں بھی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے پورا زورِبازو صرف کیا اور اس کے لیے مسعود اظہر کے خلاف اقدامات نہ کرنے کی دُہائیاں دیں مگر چین، ترکی اور ملائیشیا جیسے ملکوں نے پاکستان کے کردار کا بھرپور دفاع کیا جس کی وجہ سے بھارتی موقف کو پزیرائی حاصل نہ ہو سکی۔
بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے جس قدر زور صرف کیا ہے پاکستان نے اس کا عشر عشیر بھی جوابی طور پر بھارت کو دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والا ملک ثابت کرنے پر صرف نہیں کیا۔ کلبھوشن یادیو کا رنگے ہاتھوں پکڑا جانا، احسان اللہ احسان کے اعترافی بیانات اس کی ایک اہم بنیاد بن سکتے تھے مگر عالمی نظام کی مجبوریوں اور مصلحتوں کے کیا کہنے کہ عالمی عدالت انصاف میں ایک جاسوس اور دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ کا مقدمہ پوری توجہ اور ہمدردی سے سنا گیا اس لیے کہ یہ شخص دہشت گردی کی اس تعریف پر پورا نہیں اترتا جو مغربی ملکوں نے طے کر رکھی ہے اور اس اصطلاح پر اقوام متحدہ کی مہرثبت کرائی گئی ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے کٹہرے میں کھڑا سیاسی فیصلوں کی قیمت چکا رہا ہے اور اس لٹکتی تلوار کے نیچے پاکستان کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے جبکہ اسی تلوار کے سائے تلے امریکا افغانستان سے باعزت رخصتی کا ماحول پیدا کر رہا ہے اوراسی کی آڑ میں بھارت کشمیر میں کچھ فیصلہ کن اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے کرتا جا رہا ہے۔