خدمت اور دیانت کا باب، نعمت اللہ خان

290

کراچی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب بند ہوگیا۔ جماعت اسلامی کے لیے پوری زندگی وقف کرنے والے سابق امیر جماعت اسلامی کراچی اور کراچی کے اولین سٹی ناظم نعمت اللہ خان گزشتہ منگل کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ 1948ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان میں بسنے کے لیے جو زمین منتخب کی وہ کراچی کی زمین تھی اور 72 برس بعد اس شہر میں پیوند خاک ہوئے۔ نعمت اللہ خان 1957ء میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے تھے۔ نوجوانی بھی انہوں نے مسلم لیگ اور قائد اعظم کی رہنمائی میں سیاسی جدوجہد کی تھی۔ 17 برس کی عمر میں کراچی پہنچے، فٹ پاتھ پر راتیں گزاریں لیکن ہر دور میں خدمت خلق کا جذبہ ساتھ لیے رہے یہاں تک کہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر بنے۔ سندھ کے نائب امیر اور الخدمت فائونڈیشن پاکستان کے صدر بنے۔ نعمت اللہ خان کی پوری زندگی دین کی سربلندی کی جدوجہد اور خدمت خلق سے عبارت ہے۔ ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا بندگان خدا کی خدمت۔ وہ ان کے دُکھ درد میں شریک ہو کر بھی یہ کام کرتے تھے اور سیاست کے میدان میں کھڑے ہو کر بھی خلق خدا کو آرام پہنچانے کے لیے کوشاں رہے۔ غرض ان کا ہر کام
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
کے عنوان سے تھا۔ وہ ہر دم پاکستان، اسلامی نظام اور فکر آخرت میں غلطاں رہتے تھے۔ بحیثیت امیر جماعت اسلامی نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کی خدمات کا پوری جماعت اسلامی اعتراف کرتی ہے۔ غالباً وہ موت کی بانہوں سے قبل طویل ترین عرصے جماعت اسلامی کے امیر رہنے کا شرف بھی رکھتے ہیں۔ لیکن نعمت اللہ خان کی زندگی کا آخری حصہ ان کی ساری زندگی پر حاوی نظر آتا ہے جس میں وہ الخدمت فائونڈیشن اور کراچی کے سٹی ناظم رہے۔ پوری عمر انہوں نے مشکل اور نازک مرحلے بڑی آسانی سے عبور کیے جن کے بارے میں کوئی طاقتور اور جواں عمر شخص بھی کئی مرتبہ سوچتا ہے۔ ضعف کے باوجود پورے پاکستان میں متاثرین سیلاب و زلزلہ کی مدد کے لیے خود پہنچنا، مشکل ترین سفر میں خود جانا، جہاں گاڑیاں نہ چلتی تھیں وہاں کشتی میں بیٹھ کر سیلاب متاثرین کی سرپرستی کرنا، بالاکوٹ، مظفر آباد، سوات ہر زلزلہ زدہ علاقے میں خود جا کر کام کی نگرانی کی۔ 75 برس کا بوڑھا تھر کے ریگستان میں اپنی نگرانی میں کنویں کھدوا رہا تھا تاکہ لوگ پیاسے نہ رہیں۔ وہ لوگوں سے براہ راست ملتے اور ان کو یاد رکھتے تھے۔ سیلابوں اور زلزلوں میں خدمت کی مثال قائم کرنے کے بعد جب کراچی کے پہلے سٹی ناظم بنے تو ایک چیلنج تو یہ تھا کہ تباہ حال کراچی کے لوگوں کو کس طرح ریلیف دیا جائے۔ دوسرا اور بڑا چیلنج یہ تھا کہ جو نظام آیا تھا وہ پہلی مرتبہ متعارف ہوا تھا اسے خود سمجھنا اور دوسروں کو سمجھانا، ایک مرحلہ تو یہ بھی تھا۔ یہ نظام کم و بیش وہی نظام تھا جس کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں سابق میئر کراچی عبدالستار افغانی کی بلدیہ کو مسلم لیگ کے وزیراعلیٰ غوث علی شاہ نے توڑ دیا تھا۔ وہ میٹرو پولیٹن اختیارات کا مطالبہ تھا۔ اور سٹی گورنمنٹ بھی یہی نظام لائی تھی۔ تمام شہری ادارے ایک مرکزی نظام میں لائے گئے تھے اور نعمت اللہ خان نے ایک سال کے اندر تمام اداروں کو سٹی گورنمنٹ کے ماتحت لانے کا نظام بنا کر دے دیا۔ البتہ سندھ حکومت میں موجود مخالفین اور کراچی کے نام نہاد ٹھیکیدار گورنر سندھ مسلسل رکاوٹ بنے رہے۔ واٹر بورڈ، بلڈنگ کنٹرول جیسے اہم ادارے سٹی گورنمنٹ کے ماتحت دینے میں تاخیر کی گئی۔ بہرحال نعمت اللہ خان نے تباہ حال کراچی کو ایک مرتبہ پھر روشنیوں کا شہر بنایا، کراچی کو اسکول، کالج، اسپتال، پارکس اور کھیل کے میدان دیے۔ بلدیاتی اداروں سے کرپشن کا خاتمہ کیا، کراچی کے بجٹ کو پانچ ساڑھے پانچ ارب سے 43 ارب روپے تک پہنچایا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا بلکہ عوام کو ریلیف دیا۔ بلدیہ کے فنڈ میں اربوں روپے آنے سے ملازمین اور بلدیاتی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے والے شہری خوشی سے سرشار ہوئے۔ نعمت اللہ خان کے دور میں ہر شعبے میں کام کیا گیا کراچی کی سڑکوں، بجلی کے نظام، ٹریفک سگنلز کی تنصیب، کیمروں کے ذریعے شہر کی نگرانی، برساتی نالوں کی صفائی، پانی کی فراہمی کے نظام، بسوں اور گرین بسوں کی فراہمی ماس ٹرانزٹ منصوبہ، کچی آبادیوں کے مکینوں کو لیز کی فراہمی سمیت بہت سے تاریخی کام کیے۔ نعمت اللہ خان کے دور میں کراچی میں تعلیمی اداروں کی بحالی اور نئے اداروں کا قیام بھی عمل میں آیا۔ ایک اہم پہلو شہر میں دینی اور اسلامی علوم کے حوالے سے ادارے کا قیام تھا۔ المرکز اسلامی کی شکل میں نعمت اللہ خان کراچی کو بہترین تحفہ دے گئے۔ بلدیاتی اداروں کے سابق سربراہوں ان کے ساتھ کام کرنے والے افسروں سمیت پورا کراچی سوگوار ہے۔ اگرچہ نعمت اللہ خان ڈیڑھ عشرے قبل نظامت سے فارغ ہوگئے تھے مگر ان کے شروع کیے ہوئے بہت سے کاموں کو دوسروں نے پورا کیا اور کراچی عرصے تک چمکتا دمکتا اور روشن رہا لیکن سیاسی مداخلت اور کراچی کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے مل کر کراچی کو ایک بار پھر کھنڈر بنادیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ کراچی کو اپنے ہاتھ سے سنوارنے والے نعمت اللہ خان اپنی آنکھوں کے سامنے کراچی کی بربادی برداشت نہ کرسکے اور 1948ء میں جس زمین پر بسنے کا فیصلہ کیا تھا 25 فروری 2020 کو اسی زمین کے نیچے جابسے۔ خدا ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، لغزشوں کو معاف کرے، ان کی اولاد کو صدقہ جاریہ بنائے، جماعت اسلامی اور الخدمت میں ان کے ساتھ کام کرنے والے بھی ایک اعتبار سے ان کے وارث ہیں ان کو بھی نعمت اللہ خان کا صدقہ جاریہ بنائے آمین۔