بھارت خطرناک راستے پر گامزن ہے‘ واپسی ممکن نہیں لگتی‘ منطقی انجام خونریزی ہوسکتا ہے‘ عمران خان

267
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے امریکی سیکرٹری تجارت ولبر راس ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت جس خطرناک راستے پر نکل چکا ہے اس سے واپسی ممکن نظر نہیں آتی، منطقی انجام خونریزی ہوسکتا ہے۔ان کے بقول مقبوضہ کشمیر ابتداتھی اور اب بھارت کے 20کروڑ مسلمان نشانہ بن رہے ہیں، اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، عالمی برادری کو اس صورتحال کے حوالے سے لازمی ایکشن لینا ہوگا۔ان خیالات کا وزیراعظم انہوں نے 26فروری 2019ء کی بھارتی جارحیت کو ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے تقریب سے خطاب اور اپنے ٹویٹر بیان میں کیا۔ وزیراعظم آفس کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب بھارتی جارحیت اور پاکستان کا ذمے دارانہ ردعمل کے موضوع پر ہوئی۔ تقریب میں وفاقی وزرا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ائر چیف مجاہد انور خان سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔ عمران خان نے کہاکہبھارتی جارحیت کے خلاف پاک فوج کے مضبوط عزم کو دیکھ کر مجھے اعتماد ملا،جارحیت کا جس طرح جواب دیا دنیا یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ داخلی طورپر مسائل کو جلد حل کرلیں گے،مشکل وقت سے نکل آئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پلواما واقعہ کے بعد پاکستان کو اندازہ تھا کہ بھارت کچھ نہ کچھ کرے گا، ہم نے تیاری کرلی تھی اور جب بھارت نے 26 فروری کو جارحیت کی تو پاکستان نے ذمے داری کا ثبوت دیا ،تحمل کا مظاہرہ کیا جبکہ بھارتی میڈیا نے جنگ کا ماحول پیداکردیا تھا۔ پاکستان نے قطعاً خوف و ہراس کی فضا قائم نہیں ہونے دی کیونکہ ہم نے تیاری کی ہوئی تھی کہ جس طرح کا اقدام کیا جائے گا اس جواب اسی طرح دیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 26فروری کو جب پاک فضائیہ کے سربراہ نے مجھے رات 3 بجے انتہائی اعتماد کے ساتھ بتایا کہ بھارت نے بمباری کی ہے تو ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے اور جب صبح جانی نقصان نہ ہونے کے بارے میں پتا چلا تو اس کے مطابق ہم نے ردعمل دیا۔