اسرائیلی وزیراعظم کایہودی آباد کاری کےمنصوبہ پرعمل درآمد کا اعلان

187

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے یہودی آباد کاری کےمتنازع منصوبہ پرعمل درآمد کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے یہودی آباد کاری کےایک اور متنازع منصوبہ پرعمل درآمد کا اعلان کیرتے ہوئے کہا کہ منصوبےسےمشرقی القدس تقسیم ہوکر رہ جائے گا اور فلسطینیوں کی ریاست کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ اعلان  اس وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات میں صرف 6 روز رہ گئے ہیں ۔نیتن یاہو انتخابات میں یہودی آبادکاروں کی حمایت کےحصول کیلئے جد وجہد کررہےہیں اسی سلسلے میں انھوں نے ای-1 نامی بنجر پہاڑی علاقے میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کیلئےساڑھے 3 ہزار مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Image result for Netanyahu pledges to build new settler homes ahead of elections

واضح رہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ اور اپنے یورپی اتحادیوں کےاعتراضات کے بعداس علاقے میں 2012ء میں یہودی آبادکاروں کیلئےمکانات کی تعمیرکے اس منصوبےکو منجمد کررکھا تھا۔یورپی ممالک کا کہنا ہےکہ اس منصوبے  پر عمل درآمد سے اسرائیل کا فلسطینیوں کے ساتھ مستقبل میں امن معاہدہ خطرے میں پڑجائے گا۔

دوسری جانب فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل کیا گیا تو اسرائیل کے زیر قبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کا علاقہ دو حصوں میں بٹ جائے گا اور مشرقی القدس تک رسائی منقطع ہوجائے گی۔

Image result for Netanyahu pledges to build new settler homes ahead of elections

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ءکی جنگ میں غربِ اردن اور القدس پر قبضہ کیا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں غربِ اردن اور غزہ پر مشتمل علاقوں میں اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہوگا۔

نیتن یاہو نے منگل کے روز اپنی تقریر میں کہا ہےکہ”میں نے ای -1 میں 3500 مکانوں کی تعمیر کےمنصوبے کو فوری طور پر شائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ منصوبہ پہلے ہی چھے سے سات سال سے تاخیر کا شکار ہے”۔ ای-1 منصوبہ مقبوضہ بیت المقدس میں واقع سب سے بڑی یہودی بستی مالے ایڈومیم کو وسعت دےگا اور یہ بستی مقبوضہ القدس سے مل جائے گی۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے نیتن یاہو کے اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ “یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو امن عمل کو تباہ کرنے کی کارروائی ہے”۔‘‘

Image result for Netanyahu pledges to build new settler homes ahead of elections

فلسطینی اور  عالمی ادارے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیلی ریاست میں ان غیرقانونی یہودی بستیوں کو ضم کرنے کی حمایت کی ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اپنے مشہور مشرقِ اوسط امن منصوبہ کا اعلان کیا تھا اور اس کو صدی کی ڈیل قراردیا تھا اور غیرقانونی یہودی بستیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کیا گیاتھا۔اس میں ایک ایسی فلسطینی ریاست قیام کے تجویز پیش کی گئی ہے جو اسرائیل کی مرہون منت ہو۔جس کومحدود مالی اور انتظامی خود مختاری حاصل ہوں۔ فلسطینیوں نے اس منصوبہ کو مسترد کردیا تھا ۔