سندھ ہائیکورٹ :کرپٹو کرنسی کو قانونی بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت

88

کراچی(نمائندہ جسارت)سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت، عدالت نے سماعت 27 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔سماعت کے موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی اور ایف آئی اے سے تاحال جواب کے منتظر ہیں، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کا نمائندہ کہاں ہے؟، آپ لوگ کیوں دیر کر رہے ہیں؟۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میں نے گزشتہ سماعت پر ایک رپورٹ پیش کی تھی کہ ایف آئی اے لوگوں کو ہراساں کر رہا ہے، جس نے ایف آئی کے خلاف رپورٹ دی تھی ایف آئی اے نے اسے گرفتار کیا ہوا ہے۔عدالت میں اسٹیٹ بینک کے جواب پر وقار زکا نے جواب الجواب جمع کرادیا، جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو جواب دینے اور وقارزکا کو ایس ای سی پی کی ویب سائٹ کے دستاویزات بھی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 27 مارچ تک ملتوی کردی۔ درخواست گزارکا مؤقف ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 6 اپریل 2018 کو پابندی لگادی گئی ہے،اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو پر پابندی نا انصافی اور آئین کی خلاف ورزی ہے ، پاکستان ہر سال 6 ہزار گریجویٹ پیدا کرتا ہے،ترقیاتی ممالک ڈیجیٹل کرنسی سے کثیر سرمایہ کما رہے ہیں،دیگر ممالک میں ڈیجیٹل کرنسی استعمال ہورہی،عدالتوں نے حکومت کو اس حوالے سے قوانین بھی بنانے کی ہدایت کی ہے، ڈیجیٹل کرنسی سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ،اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے، حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کی ہدایت کی جائے، ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال سے قومی مفاد کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔