عدالت عظمیٰ سندھ حکومت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر میں کرپشن کا اعتراف کرلیا

91

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی سندھ نے نئی گج ڈیم کی تعمیر میں کرپشن کا اعتراف کرلیا۔سپریم کورٹ میں واٹر کانفرنس سفارشات عملدر آمد کیس کی سماعت ہوئی تو سندھ حکومت کی جانب سے پیشرفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہر کام میں سب سے پیچھے کیوں ہوتا ہے؟۔ صوبائی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی رپورٹ ساتھ لیکر آئے ہیں۔ ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے بتایا کہ سندھ میں 64چھوٹے ڈیمز تعمیر کیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نئی گج ڈیم بنانے سے سندھ حکومت کو کون روک رہا؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ نئی گاج کیلیے جاری وفاق کے چھ ارب روپے بھی خوردبرد ہوگئے۔ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی سندھ نے نئی گج ڈیم میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن نے 17 افراد کیخلاف کارروائی کیلیے اجازت مانگی ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وزیراعلی سندھ اینٹی کرپشن کو کارروائی کی اجازت دینگے؟۔ ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے جواب دیا کہ انکوائری بھی وزیراعلی کے حکم پر ہی شروع ہوئی تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کی سب سے بڑی جھیل کینجھر سندھ میں ہے، سارے جہاں کا گندا پانی کینجھر جھیل میں جا رہا ہے، سب سے بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود سندھ والے پانی کو ترس رہے ہیں، ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں، ایسی فصلیں لگائی جانی چاہییں جو پانی کم پیتی ہوں، کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے، زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی ہمیں کپاس درآمد کرنی پڑتی، کاشتکار مل مالکان کے دباؤ میں گنا کاشت کرتے ہیں، کاشتکار کو ڈر ہوتا ہے گنا نہ اگایا تو مل مالک زمین ہی ہتھیا لے گا۔ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ سندھ میں آج بھی دو سو روپے فی فصل پانی کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک فصل سے آمدن کروڑوں کی ہوتی ہے اور پانی کے صرف 200 روپے وصول ہوتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیمنٹ، ٹیکسٹائل، لیدر سمیت دیگر انڈسٹریز کیلیے ٹیرف متعارف کرانا تھا، اگر انڈسٹری کو پانی مفت مل رہا ہے تو انہوں نے پانی کی قدر نہیں کرنی، یہ وہی بات ہو جائے گی کہ مال مفت دل بے رحم، لاہور، قصور، کراچی اور حیدر آباد میں زیر زمین پانی آلودہ ہوگیا ہے، جتنا پانی دریاؤں میں ہے اتنا ہی پانی زیر زمین سے نکلا جا رہا ہے، حکومتی محکمے کس اصول کے تحت پانی کی رقم وصول کریں گے،پاکستان کمیشن فار انڈس واٹر کے نمائندے نے عدالت میں بتایا کہ ہم اپنی سفارشات دے چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں سے سفارشات پر عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔