وفاقی کابینہ نے نئی تعلیمی پالیسی کی منظوری دے دی

219

اسلام آباد(صباح نیوز+اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یکساں تعلیمی پالیسی کی منظوری دیدی گئی ہے۔ پہلی سے پانچویں جماعت تک یکساں نصاب تیار کرلیا گیا ہے جو قومی نصاب کونسل کو منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے نصاب کو مارچ 2020ء میں نیشنل کانفرنس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اس میں علاقائی زبانوں میں تعلیم کی فراہمی بھی شامل ہے۔مدارس کے طلبہ بھی سائنس و ٹیکنالوجی کے علوم سے مستفید ہوسکیں گے اس حوالے سے اتحاد تنظیمات مدارس کے تعاون پر کابینہ نے شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ’’پاکستان نیشنل ایجوکیشن پلان 2020‘‘ کی منظوری دی ہے۔ اس پلان کا مقصد ملک میں یکساں نصاب کا نفاذ، دینی تعلیم کو مرکزی دھارے میں لانا،ا سکولوں سے باہر بچوں کو واپس اسکولوں میں لانا اور تعلیم بالغان، اسکل فار آل اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات شامل ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی فریم ورک 2018ء میں وضع کیا گیا تھا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز میں ملک میں 3 مختلف نظام تعلیم کا رواج پایا جانا، کئی اضلاع کا ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے ہونا اور 22ملین بچوں کا اسکولوں سے باہرہونا شامل ہے جن میں سے 12ملین بچیاں ہیں،ملک میں شرح خواندگی 62فیصد ہے۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت کا نصاب مارچ 2021ء تک تیار کر لیا جائے گا۔ مادری زبان میں تعلیم دینے کے بارے میں نیشنل کانفرنس کا انعقاد مارچ 2020 ء میں کیا جائے گا ۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ مارچ 2021 ء تک ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پرائمری کی سطح تک ایک ہی نصاب ہوگا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مدرسوں میں نظام تعلیم کے حوالے سے اصلاحات میں بھی خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ اتحاد تنظیم المدارس اس ضمن میں حکومت سے مکمل طور پر تعاون کر رہی ہے۔ بہت جلد تمام مدارس میں یکساں نصاب تعلیم رائج ہوگا۔ مدارس کے بچے بورڈ کے تحت امتحانات دیں گے۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے نظام تعلیم میں تفریق کو ختم کرنے کے لیے پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے جو 4 سال پر محیط ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم بالغان کے حوالے سے اسمارٹ فونز کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ہنرمند پاکستان پروگرام کے تحت ایک لاکھ 70 ہزار بچوں کو ہنر دیا جائے گا۔ انڈر گریجویٹ سے پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لیے جامع اسکالرشپ پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے۔ 50 ہزار طلبہ کو اسکالرشپ دیا جائے گا۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ پیش کرنے میں ناکامی پر سابق وزیراعظم محمدنواز شریف پاکستان کے قانون کے تحت مفرور قرار دیے گئے ہیں، قانون کی نظر میں اگر مفرور پاکستان واپس نہیں آتا تو اسے اشتہاری قراردیدیا جائے گا، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی تنخواہ ، سرکاری مراعات ، دفتری اخراجات کے تقاضے پورے کرتے ہوئے وطن واپس آکر اپوزیشن کا کردارادا کریں، کابینہ نے بجلی کے صارفین پر اضافی بوجھ منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس حوالے سے ایندھن کے اخراجات، نیلم جہلم پروجیکٹ سرچارج اور گردشی قرضے کے معاملے پر وزارت توانائی سے پلان آف ایکشن مانگ لیا گیا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے گا،صحافیوں کے تحفظ کے بل کی اصولی منظوری دیدی گئی ہے۔ منگل کو وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کوروناوائرس کے معاملے پر متاثرہ ممالک بالخصوص چین اور ایران سے پاکستان کی طرف سے اظہار یکجہتی کیاگیا ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کے تمام ارکان کو امریکی صدر کے دورہ بھارت کے دوران بھارتی بیانیے کی ناکامی کو اجاگر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت توانائی نے بجلی کی پیداوار ، قیمتوں کے تعین ٹرانسمیشن لائنوں، صارفین سے بلز کی وصولی ،شرح قیمت اور صارفین سے اضافی بوجھ کی عدم وصولی کے لیے مختصر اور طویل المدتی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا۔ احساس پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے عزم کیا ہے کہ اس پروگرام کے تحت عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کے بل کی اصولی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس ضمن میں وزارت اطلاعات و وزارت انسانی حقوق کے بلز کو یکجا کرتے ہوئے وزارت قانون و انصاف کے سپرد کردیا گیا ہے۔ کابینہ نے اصولی طورپر بل کی منظوری دیدی ہے اور وزارت کو حتمی بل تیار کرکے قائمہ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اشیا کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مافیاز کو سخت پیغام دیا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو کسی صورت برداشت نہیںکیا جاسکتا۔