شام پر روس اور ترکی کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے

100

انقرہ ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی شام میں کشیدگی کم کرنے کے لیے روسی وفد آج ترکی پہنچے گا۔ اس حوالے سے صدر رجب طیب اِردوان نے گزشتہ روز آذربائیجان روانگی سے قبل انقرہ میں بات کرتے ہوئے روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ صدر اِردوان کا کہنا تھا کہ آیندہ ماہ جرمنی، فرانس، روس اور ترکی کے مابین شام کے موضوع پر مذاکرات کا فی الحال حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے، تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آیندہ ہفتے ان کے ساتھ ملاقات کے لیے آ سکتے ہیں۔ ہوائی اڈے پر پریس بریفنگ میں ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ انقرہ اور ماسکو کے درمیان ادلب اور لیبیا کے معاملے پر تناؤ ہے، اور ہم اولین طور پر شامی مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے صدر پیوٹن سے رابطے میں ہوں اور ساتھ ہی متعلقہ وزرا اور خفیہ سروس کے درمیان بھی معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں حفتر ملیشیا غلط طریقے سے اقتدار ہاتھ پر قابض ہونے کی کوشش کررہا ہے اور وہاں روس کی ایک سیکورٹی تنظیم بھی سرگرم عمل ہے، جس کے ڈھائی ہزار جنگجو حفتر ملیشیا کی صف میں شامل ہیں اور اس کی مالی معاونت ابوظبی انتظامیہ کررہی ہے۔ اُدھر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس نے ادلب میں انسانی صورت حال پر روس اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ترجمان کے مطابق شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔