مودی ٹرمپ گٹھ جوڑ اور بھارتی مسلمان

640

یہ عجیب بات ہے کہ امریکی صدر جب بھی بھارت کا دورہ کرتا ہے تو بھارت میں اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ 2000 میں جب بل کلنٹن نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو 35 سکھوں کو ماردیا گیا تھا ۔اس مرتبہ بھی ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر سکھ ڈر اور خوف کے عالم میں تھے مگر اب کی مرتبہ مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ دہلی میں بھارتی پولیس کے تحفظ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈے مسلم آبادی پر پل پڑے اور انہوں نے مساجد سمیت مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کیا ، انہیں شدید زدوکوب کیا اور زخمیوں کو اسپتال لے جانے میں رکاوٹیں ڈالیں جس کی وجہ سے کئی مسلمان محض زیادہ خون بہہ جانے اور وقت پر اسپتال نہ پہنچانے کی بناء پر جام شہادت نوش کرگئے ۔یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ دنیا بھر میں اخلاق اور تہذیب کا درس دینے والے امریکا کے صدر کو بھارت میں ایک مرتبہ بھی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم یاد نہیں آئے ۔ اسے بھی مودی اور ٹرمپ کی ڈھٹائی ہی کہا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر کے دورے کے لیے احمدآباد کو چنا گیا ۔ احمد آباد میں 28 فروری 2002 میں مودی کی قیادت میں خونیں مسلم کش فسادات ہوئے تھے جن میں تین روز تک ریاست نے ہندو بلوائیوں کو مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کا تشدد کرنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی ۔ مسلمانوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے پولیس موجود تھی جبکہ ہندو بلوائیوں کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی ۔ گجرات فسادات کی مودی پر ذمہ داری عاید ہونے کی بناء پر امریکا میں مودی کے داخلے پر پابندی عاید تھی جو امریکی حکومت نے مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہٹائی ۔ گجرات فسادات کی بناء پر ہی مودی کو قسائی کہا جاتا ہے ۔ گجرات فسادات کی عین سالگرہ کے موقع پر احمدآباد میں امریکی صدر کی آمد ، اس موقع پر دہلی میں گجرات فسادات کا ری پلے امریکی اور بھارتی گٹھ جوڑ کی کہانی سنانے کے لیے کافی ہے ۔ ٹرمپ نے دورہ بھارت میں اپنی تقریر میں پاکستان کے لیے ایک جملہ کیا بول دیا ،ا س پر پاکستانی حکام پھولے نہیں سما رہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو امریکی سرٹیفکٹ کی ضرورت رہتی ہے ۔ امریکی صدر کے افعال دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ حقیقت کیا ہے ۔ امریکی صدر نے اپنے دورہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم ، مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے ، مقبوضہ کشمیر کا تنازع حل کرنے کے بجائے اسے بھارتی ریاست میں ضم کرنے ، دو سو سے زاید دنوں سے مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈاؤن کرنے کے بارے میں ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا ۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ بھارت میں خواتین غیر محفوظ ہیں ۔ دہلی کو دنیا بھر میں آبروریزی کا دارالحکومت کہا جاتا ہے مگر اس پر بھی امریکی صدر نے کچھ نہیں بولا ۔ امریکی دعووں کے برعکس ٹرمپ نے یہ سب کچھ کرنے پر عملی طور پر مودی کی پیٹھ تھپکی اور امریکی کارپوریشنوں کے لیے تین ارب ڈالر کے سودے کر ڈالے جو بھارتی عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر ادا کیے جائیں گے ۔ حیرت پاکستانی حکام پر ہے کہ وہ بھارت میں سرکاری تحفظ میں ہونے والے مسلم کش اقدامات پر منہ سے بھاپ بھی نکالنے کو تیار نہیں ہیں ۔ بھارتی مسلمانوں کو پاکستان کی حمایت کرنے کے الزام میں ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، اسی بناء پر ان کی جان ، مال اور آبرو پر حملے کیے جاتے ہیں مگر پاکستان ہی اس بارے میں دم سادھے ہوئے ہے ۔ اس بارے میں نہ تو اسلامی ممالک کی تنظیم نے کوئی آواز بلند کی ہے اور نہ اس بارے میں اقوام متحدہ میں کسی نے کوئی تحریک پیش کی ہے ۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کو مردہ گھوڑا کہنے پر عرب ممالک ناراض تو بہت ہوتے ہیں مگر کوئی یہ تو بتائے کہ بھارت میں مسلمانوںپر ہونے والے مظالم کی داد رسی کے لیے کون اٹھے گا ۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم تحریک شروع ہوئے ایک سال ہونے کو ہے جس میں ہر روز تیزی آرہی ہے ۔ متنازع شہریت بل کی منظوری کے بعد سے عملی طور پر بھارت کی زمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی ہے جس کی ہر معقول سوچ رکھنے والے نے مذمت کی ہے ۔ ٹرمپ تو اس وقت مسلم دشمن کا روپ دھارے ہوئے ہیں ۔ اسرائیل بھی یہی کچھ فلسطینیوں کے ساتھ کررہا ہے مگر اس کی حمایت میں ٹرمپ پیش پیش ہیں ۔ امریکیوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ ٹرمپ کی صورت میں دنیا کے سامنے ان کی کیا صورت بن رہی ہے ۔