رشوت لینے پر پولیس کی مکمل شفٹ کا تبادلہ کردیا گیا

172

لاہور: 100 روپے بطور رشوت لینے پر ایک ہی شفٹ میں کام کرنے والے 13 پولیس اہلکاروں کا 6 مختلف اضلاع میں  تبادلہ کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس سے متعلقہ امور میں رعایت کے عوض 100 روپے بطور رشوت وصول کرنے کے جرم میں ایک ہی شفٹ میں کام کرنے والے 13 پولیس اہلکاروں کا 6 مختلف اضلاع میں تبادلہ کردیا گیا۔

نجی نیوز ایجنسی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صدر پولیس ڈویژن کے وائرلیس کنٹرول روم میں تعینات پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے چونگ پولیس اسٹیشن میں تعینات پولیس اہلکار سے پولیس سے متعلقہ امور میں رعایت کے عوض 100 روپے بطور رشوت وصول کی۔

اہلکار کو محکمہ پولیس میں ہونے والی بدعنوانیوں کے حوالے سے حساس ادارے اسپیشل برانچ کی کڑی نگرانی کا علم نہیں تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس  کنٹونمنٹ ڈویژن کا وائرلیس کنٹرول روم بھی اسی طرح کی بد عنوانیوں میں ملوث پایا گیا تھا جہاں ایک پولیس اہلکار نے محکمے سے متعلق امور میں رعایت کے عوض تعینات تفتیش کار کی قیمت پر چائے پی تھی۔

رشوت کی وصولی کے بعد یہ معاملہ اعلی افسران کے نوٹس میں لایا گیا اور متعلقہ شواہد کے ساتھ جمع کی گئی معلومات کو ایس ایس پی ٹیلی کمیونی کیشن کو بھی فراہم کی گئیں جس کے نتیجے میں فوری کارروائی کی گئی  اور مستقل بنیادوں پر وائرلیس کنٹرول روم کی پوری شفٹ کو دوسرے اضلاع میں منتقل کردیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ اقدام دوسرے وائرلیس کنٹرول روم سے یکساں بدعنوانی کی خبروں کے آنے بعد کیا گیا ہے۔

کارروائی میں نچلے عہدے کے دو افسران بھی شامل تھے۔ ضلع لاہور سے نکالے جانے والے پولیس اہلکاروں کے نام بوٹہ، عالم، پرویز، شاہد، ذوالفقار، شوکت، رفیق، قیصر، افتخار، ریاضت، جاوید، خرم اور ظفر ہیں جنہیں بالترتیب ساہیوال، جھنگ، خانیوال، بہاولنگر، مظفر گڑھ اور بہاولپور میں تعینات کیا گیا ہے۔