پاکستان دنیا کو منشیات کے عفریت سے بچانے کے لئے کوشاں ہے، شہریا ر خان آفریدی

219

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریا ر خان آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کو منشیات کے عفریت سے بچانے کے لئے کوشاں ہے۔ ہم منشیات اور دہشت گردی کے خلاف دفاع کی پہلی لائن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔بدقسمتی سے دنیا نے ابھی تک منشیات کے خلاف لڑنے والے ممالک کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا ۔وہ منگل کو منشیات کے کنٹرول سے متعلق چوتھی ٹرانس ریجنل کوآپریشن میٹنگ کے شرکا سے خطاب کررہے تھے ۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ علاقائی اور عالمی تنظیموں کومنشیات سے پاک معاشرہ قائم کرنے میں اپنے تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو منشیات کے عفریت سے نجات دلائی جاسکے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان دنیا کو منشیات کے عفریت سے بچانے کے لئے کوشاں ہے۔ ہم منشیات اور دہشت گردی کے خلاف دفاع کی پہلی لائن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان خطے اور دنیا کو منشیات سے بچانے کے لئے شراکت داروں اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منشیات سے نجات کے لئے ٹرانس ریجنل اور عالمی شراکت داری کے فریم ورک کو ترجیحی شعبہ بنایا گیا ہے اور ہم دنیا کے ساتھ اپنے تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔”بدقسمتی سے دنیا نے ابھی تک منشیات کے خلاف لڑنے والے ممالک کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ جس طرح اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ مشین کی قربانیوں کو مانا جاتا ہے بالکل اسی طرح منشیات کا مقابلہ کرنے والے ممالک کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو 2001 سے پوپی سے پاک ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں کم وسائل ہونے کے باوجود عالمی سطح پر منشیات کے کنٹرول میں اولین درجے میں ممالک میں شامل کیا جاتا ہے۔ اے این ایف( ANF ) کی ذہانت اور پیشہ ورانہ قوت سے اس عمل کو یقینی بنایا گیا ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں منشیات کے مطالبے میں کمی اور بڑے پیمانے پر معاشرے میں شعور بیدار کرنے کے لئے سمارٹ فون کی ایپلیکیشن ‘زِندگی’ متعارف کرائی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے بذات خود اس اپلیکیشن کا افتتاح کیا۔

اس اپلیکیشن کے متعارف کروانے پر پاکستان کو علاقائی اور عالمی دونوں جانب سے پذیرائی مل رہی ہے۔ مزید یہ کہ ہم نے مقامی طور پر دنیا بھر میں منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث مجرموں کا ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس تیار کیا ہے۔ اس سے پاکستان اور اس کے دوست ممالک کو منشیات کے بین الاقوامی ڈیلروں کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت پاکستان بین الاقوامی تعاون میں مزید اضافہ کی کوششیں کرے گا کیوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ منشیات سے متعلق جرائم کی نوعیت عالمی ہے۔ “منظم جرائم کے مرتکب افراد ، اپنی لالچ اور ہوس کے نشے میں آ کر جدید غیرقانونی طریقے استعمال کر کے بے گناہ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔وزیر برائے انسداد منشیات شہریار خان آفریدی نے اس میٹنگ کے انعقاد پر یورپی یونین – ایکٹ پروجیکٹ ٹیم ، یورپی یونین کے وفد اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کا شکریہ ادا کیا۔