صحت و تعلیم کے شعبے تجارتی ادارے بن کر رہ گئے ہیں، کمشنر کراچی

183

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کمشنر کراچی افتخار احمد شالوانی نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو کنٹرول ریٹ پر سبزیاں فراہم کرنے کے لیے ایک آن لائن کمپنی کی خدمات حاصل کر لی گئیں ہیں، جو پہلے ضلع ساؤتھ اور اس کے بعد مرحلہ وار شہر بھر میں صارفین کو یہ سہولت فراہم کرے گی، اور معمولی ڈیلیوری چارجز لے گی،

بد قسمتی سے ہمارے یہاں صحت اور تعلیم کے شعبے کسی حد تک محض صرف تجارتی ادارے بن کر رہ گئے،منافع کمانا ناجائز نہیں مگر زیادہ منافع کمانا ناجائز ہے یہ باتیں انہو ں نے مقامی ہوٹل میں کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے اشتراک سے منعقد ہونے والی تیسری پاکستانی ہیلتھ کیئر سمٹ 2020سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں،

کانفرنس سے پہلے صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتاز ایسوسی ایشن کے چیئر مین کوکب اقبال، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر منہاج اے قدوائی، پی ایم اے کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد، ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی، پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل عتیق الرحمن، ڈاکٹر فرحان عیسی، ڈاکٹر سید عمران علی شاہ، بریگیڈئر وقار، شیخ خلیل، محمود باری اور دیگر نے خطاب کیا،

کمشنر کراچی نے کہا کہ صحت و تعلیم کے شعبوں میں مطلوبہ توجہ نہ دیئے جانے کے باعث ملک کی مجموعی ترقی پر اثر پڑرہا ہے، سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتاز نے کہا کہ تھر میں بچوں کے ہلاکت کا بہت شو ر مچایا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ بچے غذائی قلت اور علاج نہ ہونے کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں،

حالانکہ بچوں کی یہ ہلاکتیں کمزور ماؤں کی وجہ سے ہورہی ہے کیونکہ 14سال کی عمر میں وہاں ماں بن جاتی ہیں، ہر سال بچے کی پیدائش کے نتیجے میں ماں بہت کمزور ہوجاتی ہے اور 800گرام تک کے بچے پیدا ہوتے ہیں، انہوں نے گمبٹ میں صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام لیور ٹرانسپلانٹ مفت کیا جارہاہے،

جے پی ایم سی میں سائبر نائف کا استعمال مفت ہورہاہے، برنس وارڈ سول اسپتال کراچی میں پاکستان بھر سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں، انہو ں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کو مشورہ دے رہی ہے کہ سکون صرف قبر میں ہے، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر منہاج اے قدوائی نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد پاکستان سے اتائی ڈاکٹروں کا خاتمہ اور مریض کی حفاظت ہے،

ابھی تک ہم نے 3500اتائی کلینک سیل کردیئے ہیں، جبکہ 10000ہیلتھ کیئر اسٹبلشمنٹ رجسٹرڈ بھی کیے ہیں، اس مقصدکے حصول کے لئے سندھ بھر میں 700سے زائد وزٹ کیے ہیں،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری قیصر سجاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیلتھ اور تعلیم کا انتہائی اہم شعبے پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے،

انہوں نے بتایاکہ صرف صاف پانی کی ترسیل کی مدد سے ہم 60فیصدہونے والی بیماریوں پر قابوپا سکتے ہیں، انہو ں نے بتا یا کہ خراب پانی پینے کے سبب پاکستان میں 30لاکھ افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں،

انہوں نے مزید بتا یا کہ ان بیماریوں کے سبب سالانہ 12لاکھ پانچ سال سے کم عمر بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، انہو ں نے تاکید کی کہ پانی ہمیشہ ابال کر استعمال کریں، انہوں نے افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امیروں کے ساتھ غریب بھی منرل واٹر پینے پر مجبو ر ہے، انہو ں نے مزید کہا کہ اگر بر وقت اسپرے کیا جائے تو مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے بھی بچا جاسکتاہے۔