وزیراعلیٰ پنجاب کالاہورمیں دل کے مر ض کیلیے نیا اسپتال بنانے کا اعلان

68

لاہور(نمائندہ جسارت)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گنگا رام اسپتال میں 600 بستروں پر مشتمل مدراینڈ چائلڈ اسپتال کا سنگ بنیاد رکھا۔اس اسپتال کی تعمیر پر 7 ارب روپے لاگت آئے گی۔10 منزلہ عمارت کی تعمیر پر 4 ارب روپے جبکہ طبی آلات و مشینری کی خریداری پر 3 ارب روپے خرچ ہوں گے۔اسپتال میں زچہ و بچہ کے علاج کے لیے جدید سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔اسپتال میں 13 آپریشن تھیٹرز بنائے جائیں گے جبکہ گراؤنڈ فلور پر ایمرجنسی کا شعبہ قائم کیا جائے گا۔سیکرٹری تعمیرات و مواصلات نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے منصوبے کی تعمیر اور اہم خدو خال کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے زمین کھود کر اسپتال کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اسپتال کے ماڈل کی نقاب کشائی کی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے گنگا رام اسپتال میں مدراینڈ چائلڈ اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے جب ہم گنگا رام اسپتال میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے عظیم الشان منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ 77 برس بعد گنگا رام اسپتال کی توسیع ہونے جا رہی ہے اور مدر اینڈ چائلڈاسپتال 600 بستروں پر مشتمل ہوگا اور اس اسپتال کو 2 برس میں مکمل کیا جائے گا جس کے لیے 7 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ اسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ ہوگا اور پاکستان میں زچہ و بچہ کے علاج کے لیے ایک ریفرنس کا درجہ رکھے گا اور اس اسپتال میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ میں آج اس تاریخی درسگاہ میں موجود ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے شعبہ صحت کے لیے رواں مالی برس کے بجٹ میں 277 ارب روپے رکھے ہیں اور 45 ارب روپے کی لاگت سے صوبے میں شعبہ صحت میں نئے منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ بہاولنگر، سیالکوٹ، میانوالی، اٹک، راجن پور، لیہ اور مظفرگڑھ میں مدر اینڈ چائلڈاسپتال بنائے جا رہے ہیں اور ان اسپتالوں کے ساتھ نرسنگ کالج بھی قائم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ ملتان میں نشتر اسپتال ٹو پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا اگلے ماہ سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ اسی طرح رحیم یار خان میں شیخ زیداسپتال ٹو کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے اور اس منصوبے کا اگلے مالی سال میںآغاز کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اعلان کیا کہ لاہور میں دل کے امراض کے علاج کے لیے ایک نیا اسپتال بنایا جائے گا۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ٹو کے منصوبے کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جبکہ پبلک سیکٹر میں امراض خون سے متعلق علاج کا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ہماری حکومت لاہور میں انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز بھی بنائے گی۔ 500 بستروں پر مشتمل یہ ادارہ اگلے مالی سال میں شروع کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے کسی حکومت نے انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے قیام کے بارے میں نہیں سوچا ۔