چند برسوں سے درآمدات کے کم حجم میں کمی کے باعث محصولات میں کمی واقع ہوئی ہے،ایف بی آر کی قائم مقام چیئرپرسن نوشین جاویدامجد

134

کراچی(اسٹاف رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی قائم مقام چیئرپرسن نوشین جاویدامجد نے کہاہے کہ گزشتہ چند برسوں سے درآمدات کے کم حجم میں کمی کے باعث محصولات میں کمی واقع ہوئی ہے، مقررہ ریونیو ہدف بہت زیادہ ہے جس کا حصول مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے،رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں میں دستیاب وسائل میں ریونیو کی مقررہ ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی،نئے کسٹمزگریجویٹس کے سامنے متعدد چیلنجزاور ذمہ داریاں ہیں،افسران کو ملک کے لیے خدمات انجام دینی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کسٹم ہاوس کراچی میں ڈائریکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ریسرچ کسٹمز کراچیمیں 46ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام سے پاس آوٹ ہونےوالے30 اسسٹنٹ کلکٹرز کی تقریب کے بعدصحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی،تقریب سے ممبر کسٹم پالیسی ایف بی آر جاوید غنی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام چیئرپرسن نوشین جاوید امجد نے کہاکہ پاس آوٹ ہونےوالےگریجویٹ ہونےوالے افسران قابل مبارکبادہیں، نئے کسٹمزگریجویٹس کے سامنے متعدد چیلنجزاور ذمہ داریاں ہیں،نئے کسٹمز گریجویٹس کو ملک کے لیے خدمات انجام دینی ہے۔

انہوں نے کسٹم افسران کو ٹریننگ پروگرام کی تعریف کی جس میں اینٹی منی لانڈرنگ ،دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام،انسانی جانوں کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے افسران کی خصوصی تربیت کی گئی ہے۔اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نمو کی شرح اور معیشت کی موجودہ صورتحال بھی ریونیو ہدف کے حصول میں رکاوٹ ہیں، سیلزٹیکس کسٹم ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی کم وصولیاں ریونیواہداف کے حصول میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ انہوں کہاکہ گزشتہ چند برسوں سے درآمدات کے کم حجم میں کمی کے باعث محصولات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ معاشی سست روی بھی محصولات میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے بتایاکہ صرف 3فیصد کسٹم ڈیوٹی کی رینج میں آنےوالی مصنوعات درآمد ہورہی ہیں۔ ایزآف ڈوئنگ بزنس اورکاروباری لاگت میں کمی کے لیے ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جارہی ہے جبکہ انسانی مداخلت کم کرنے کے لیے سرحدوں پر بھی جدید اسکینرز کی تنصیب کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان باہمی اعتمادبڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قبل ازیںتقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبرکسٹمز پالیسی ایف بی آر جاوید غنی نے ٹریننگ میں کامیاب افسران کو مبارک باد دی، پاکستان کسٹمزپر بارڈرمنیجمنٹ اور انسداد اسمگلنگ کی اضافی ذمہ داریاں عائد ہیں، پاس آوٹ کرنے والے کسٹمز افسران اعلی تعلیم اورپیشہ ورانہ تربیت کے حامل ہیں جو مضبوط اعصاب کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بطور احسن نبھائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ٹریڈ ایگریمنٹ فیزٹوکے تحت پاکستان اور چین کے درمیان ڈیٹا شئیرنگ شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چائنیزکسٹم ڈپارٹمنٹ کے درمیان چائنیزدرآمدات کی ڈیٹا شئیرنگ کے بعد چین سے درآمد ہونے والے کنسائمنٹس میں50فیصد انڈرانوائسنگ کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ چائنیزکسٹمزسے وصول ہونےوالے ڈیٹا کوتمام کسٹمزکلکٹریٹس کومہیاکردیاجاتاہے۔ تقریب کے اختتام پر ٹریننگ کے دوران کامیاب افسران میں سرٹیفیکٹ اور بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کو شیلڈ بھی پیش کی گئیں۔