(ججوں کی جاسوسی) صدر‘ وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے‘ جسٹس فائز

375

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سنیچر کو سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے اور صدر، وزیر اعظم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سمیت غیر قانونی جاسوسی کے عمل میں ملوث افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔سپریم کورٹ کے جج کے مطابق فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کے بعد ان پر الزامات لگائے گئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب میں کہا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہونے پر اس عمل میں تمام ملوث افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔تحریری جواب میں کہا گیا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بھی قائم کیے جائیں جنھوں نے سپریم کورٹ کے جج اور ان کے خاندان کے افراد کی غیر قانونی طریقوں سے جاسوسی کی اور ان سے متعلقذاتی معلومات کو افشاء کیا۔جواب میں کہا گیا ہے کہ اگر اثاثہ جات ریکوری یونٹ ہی غیر قانونی قرار دیا گیا تو پھر اس کی بنیاد پر کھڑی کی گئی پوری عمارت ہی منہدم ہو جاتی ہے اور یہ صدارتی ریفرنس اس یونٹ کی دی گئی معلومات کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔انھوں نے تحریری جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے جس میں ان کے خلاف ایک ریفرنس خارج کیا گیا تاہم ان کے خلاف سخت ریمارکس بھی دیے گئے۔ انھوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے بھی ہٹانے کی درخواست کی ہے۔یاد رہے کہ یہ فیصلہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا تھا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پر سماعت روکنے سے متعلق نو درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی تیاری سے چیئرمین پی ٹی آئی (وزیر اعظم) عمران خان لا علم نہیں تھے۔ (اس مقدمے کے بعد) حکومت نے میری فیملی کی مخبری کے لیے برطانیہ میں نجی کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے اس مقدمے کی ایک سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے موکل نے فیض آباد دھرنے سے متعلق جو فیصلہ دیا تو اس میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ فوج کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی نہ تو سیاسی معاملات میں مداخلت کرسکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرسکتی ہے۔اْنھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں ائر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ اس فیصلے کی روشنی میں آئی ایس آئی کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جانا چاہیے تھے۔منیر اے ملک نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق دو رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا جبکہ نظرثانی کی درخواست میں صرف ان کے موکل یعنی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نشانہ بنایا گیا۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے جو نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی گئی ہیں اس میں بڑی سخت زبان استعمال کی گئی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے مقدمے کا تقابلی جائزہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں سنے جانے والے ایک مقدمے سے پیش کیا ہے۔ اس تقابلی جائزے میں جج نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود اپنی اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اور بچوں نے برطانیہ کی جائداد کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے کبھی نہیں چھپایا جبکہ وزیر اعظم عمران خان سمیت کئی نمایاں شخصیات نے بیرون ملک اثاثوں کو چھپایا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اور بچوں نے برطانیہ کی جائداد کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے کبھی نہیں چھپایا۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ برطانیہ میں ان کی اہلیہ اور بچوں نے جائدادیں اپنے نام پر خریدی ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور متعدد سیاستدانوں کو آ ف شور کمپنیاں بنانے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کے مطابق کئی نمایاں شخصیات نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے غیر ملکی جائداد کو چھپاپا جن میں وزیراعظم عمران خان بھی شامل ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب میں کہا کہ ’اثاثہ ریکوری یونٹ قانونی باڈی نہیں اور نہ ہی اس کا کسی قانون، وفاقی حکومت کے رولز یا سرکاری گزٹ میں ذکر ہے۔اس سے قبل سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پر سماعت روکنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے غیر ملکی اثاثوں سے متعلق تعاون کرنے کا حکم دیا تھا۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ غیر ملکی جائدادوں پر جواب دینا چاہتی ہیں تو انھیں موقع دیا جائے۔درخواست گزار پاکستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم رجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ سے منسوب جائدادوں کے ذرائع آمدن غیر ملکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غیر ملکی ذرائع آمدن ہوں تو منی لانڈرنگ، حوالہ یا ہنڈی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جس پر بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا ججز کو ٹیکس معاملات میں استثنا حاصل ہے جس پر پاکستان بار کونسل کے وکیل نے کہا کہ ججز کو اس معاملے میں استثنا حاصل نہیں ہے اور ٹیکس حکام سوال پوچھ سکتے ہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے دوبارہ استفسار کیا کہ اگر گوشوارے درست نہ ہوں تو کیا ججز سے ٹیکس حکام وضاحت لے سکتے ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ججز سے بھی وضاحت مانگی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ قانون کو اپنا راستہ اپنانے دیا جائے۔سلمان اکرم راجانے موقف اپنایا کہ اہلیہ اور بچوں سے ذرائع آمدن پوچھے بغیر جج پر الزام عائد کیا گیا۔