پاکستان میں اسمارٹ فونز اور پرزے نایاب ہونے کا خدشہ

397

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستانی مارکیٹ میں چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء کی قلت ہونے لگی ہے کیونکہ کرونا وائرس کے باعث چین میں تاحال پروڈیکشن کا سلسلہ بحال نہیں ہوسکا ہے،

پاکستان میں الیکٹرانکس درآمد کنندگان اس وقت انتہائی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ چین میں نئے سال کی چھٹیوں کے بعد سے کاروباری حالات معمول پر نہیں آسکے ہیں۔ چین سے موبائل فون ہارڈ ویئر اور اسکے پرزے درآمد کیے جاتے ہیں،

صدر موبائل مارکیٹ میں الیکٹرانکس اشیاء کے کام کرنے والے ا یک تاجر کا کہنا ہے کہ ہم سپلائی اور ذخائر کے حوالے سے تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس صرف 10فیصد ذخائر رہ گئے ہو،

درآمدات کی غیریقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں قیمتیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔ موبائل فونز کی ایل سی ڈی جوکہ 900 سے 1000 روپے میں باآسانی دستیاب تھی اسوقت 1800 روپے میں بھی مشکل سے مل رہی ہے۔ابتک موبائل کے پرزوں کی قیمتوں میں 30 فیصد تک ریکارڈ اضافہ ہوا ہے تاہم فی الحال ایک ماہ کا اسٹاک باقی ہے،

نیو ایشیا انٹرنیشنل الیکٹرانک اینڈ ڈیجیٹل سٹی کے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ تاجروں،درآمد کنندہ اور بیشتر ڈیلرز فکرمند ہیں کہ سپلائی 22 فروری سے بحال ہونی تھی لیکن تاخیر ہونے کی وجہ سے شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،

دوسری جانب تاجروں کو چین میں اپنے سپلائرز کی جانب سے یہ پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ سپلائی غیر معینہ مدت کیلیے تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔ایک اور درآمد کنندہ کا کہنا تھا کہ اگر6مارچ تک بھی ہمیں سپلائی مل گئی تو یہ ہماری خوش قسمتی ہوگی،

انہوں نے بتایاکہ کرونا وائرس کے خوف کی وجہ سے چین میں پیداواری یونٹس تاحال کھل نہیں سکے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک فون برانڈ ایسا ہے جس کی پاکستان میں کھپت ہے وہ یہاں مکمل ختم ہوچکا ہے کیونکہ اسکے تمام اسمبلی یونٹس چین سے درآمد کئے جاتے ہیں۔