کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا

877

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایران میں کرونا وائرس سے 5 افراد کی ہلاکتوں کے بعد وائرس کی پاکستان منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے،تفتان بارڈرسے روزانہ ہزاروں زائرین پاکستان داخل ہوتے ہیں اور بارڈر پر کرونااسکریننگ کے انتظامات موجودنہیں ہیں،

تفصیلات کے مطابق ایران سے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، گوادر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تافتان بارڈر سے روزانہ ہزاروں زائرین پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تاہم پاک ایران تافتان بارڈر پر کرونا وائرس کی ا سکریننگ کے لئے کوئی انتظامات تاحال نہیں کئے گئے ہیں،

کرونا اسکریننگ کے انتظامات کوئٹہ ایئرپورٹ پر کیے گئے ہیں، سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کوعملے کی شدیدکمی کاسامناہے، ایئرپورٹ،زمینی سرحدپرسینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کاعملہ تعینات ہوتاہے،

وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق طورخم،تفتان بارڈرپرتعیناتی کیلئے عملے کی بھرتیاں جاری ہیں، بھرتیاں مکمل ہونے پرعملہ تعینات کیاجائیگا،

خیال رہے ایران میں کورونا وائرس سے 5اموات ہوچکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 28ہوگئی ہے، کروناوائرس سے اموات قم اوراطراف کے علاقوں میں ہوئیں ہیں، عالمی ادارہ صحت نے ایران میں کرونا وائرس پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ عراق اورافغانستان نے ایرانی باشندوں کی آمد ورفت محدودکردی ہیں،

اس سے قبل ایرانی وزارت صحت کے حکام نے کہا تھا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ایرانی شہر قم میں ایک اسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے اور قم میں کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے اور جامعات بند کردی گئی ہیں،

حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، وائرس سے انتقال ہونے والے مریض عمر رسیدہ تھے جبکہ کرونا وائرس کے سبب کویت نے ایران کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں ہیں۔