۔47 سال سے بچھڑی دو بہنیں پھر مل گئیں

244

98 سالہ بون سین اور 101 سالہ بون چی کو  لگتا تھا کہ اس کی بہن کا انتقال ہوگیا ہے۔

دونوں بہنوں کا آبائی وطن کمبوڈیا ہے۔ دونوں نے آخری بار ایک دوسرے کو 1973 میں دیکھا تھا جس کے بعد دونوں بہنیں ظالم کمیونسٹ حکومت کا شکار ہوکر بچھڑ گئیں تھیں۔ بون سین اپنی بڑی بہن سے بچھڑ کر کمبوڈیا کے دارالحکومت فنوم پینھ میں آ بسی تھیں۔

چھوٹی بہن اپنی رواداد سناتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں کچرا جمع کر کے اس کو بیچ کر اپنی گزر و اوقات کرتی تھی اور پڑوس کے چھوٹے اور بنیادی ضروریات سے محروم بچوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی۔ میں نے اپنے آبائی گاؤں کو خیر باد کہہ دیا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میری بڑی بہن مر چکی ہے لیکن مقامی این جی او کی مدد سے میں پھر اس سے ملنے میں کامیاب ہوئی۔

انہوں نے ان ملنے کے دل افروز لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب میری بڑی بہن نے مجھے چھوا تو میں آنسو ضبط نہیں کر پائی۔

بڑی بہن کے، اپنے شوہر کی ہلاکت کے وقت 12 بچے تھے جن کی دیکھ بال انہوں نے اکیلے انتہائی  کسمپرسی کی حالت میں کی۔

بون چی کا کہنا تھا کہ پول پوٹ کی حکومت نے ہمارے خاندان کے 13 افراد کو قتل کیا۔ میں یہ سمجھتی تھی کہ میری چھوٹی بہن بھی اس میں شامل ہے کیونکہ اسے دیکھے کافی عرصہ گزرچکا تھا۔

خیال کیا جاتا ہےکمیونسٹ صدر پول پوٹ کےچار سالہ دور  (1979-1975) میں حکومتی مظالم کے باعث کمبوڈیا میں قریب 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

اس وقت  کی کمبوڈیا کمیونسٹ حکومت، جس کی باگ دوڑ اس وقت کے جابرانہ صدر پول پوٹ کے ہاتھ میں تھی، نے اپنے ملک میں مطلق کنٹرول حاصل کرنے کیلئے بہت سے خاندانوں کے افراد کو ایک دوسرے سے ہمیشہ سے کیلئے جدا کردیا اورکئی ماؤں کو اپنے بچوں کو دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔

پول پوٹ کی حکومت نے لاکھوں شہریوں کو زبردستی کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور کیا اور مختلف جرائم کے الزام میں سزائے موت دی۔ 12 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو بندوقیں تھما کر ان کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے نکال کر بیابان جگہوں پر آباد کیا گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بھوک سے مر گئے۔

بون سین اور بون چی بھی انہی بد نصیبوں میں سے تھیں۔ کمیونسٹ حکومتی عہدیداروں کے ہاتھوں دونوں بہنوں کے شوہروں کو قتل کردیا گیا تھا۔