مہنگائی میں پسے عوام اور ان کے نمائندوں کے مطالباتِ زر

225

اختر بھوپالی
ایک جائزے کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 145ارکان، سندھ اسمبلی کے 165 ارکان اور پنجاب اسمبلی کے 371 ارکان، قومی اسمبلی کے 342 ارکان کے علاوہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے 104 معزز ارکان کی صرف تنخواہیں 35 ارب سالانہ بنتی ہیں اور اگر اس میں صدر، وزیراعظم، چاروں گورنرز، چاروں وزرائے اعلیٰ کے علاوہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین کی اضافی تنخواہوں کے علاوہ وزرا، وزرائے مملکت، معاونِ خصوصی اور مشیران جن کی مراعات وزرا کے برابر ہی ہوتی ہیں یہ لگ بھگ 85 ارب سالانہ کا خرچہ بیٹھتا ہے۔ یہ اس غریب ملک کے خواص کا خرچہ ہے جہاں ایک مزدور کی تنخواہ 15 ہزار روپے اور پنشن 6500 روپے ملتی ہے۔ مورخہ 12 دسمبر 2019ء کو وزیراعظم کے مشیر جناب زلفی بخاری نے اس میں 2000 روپے اضافے کا اعلان کیا ہے جو جنوری 2020ء سے ملنے تھے مگر نصف فروری گزر گیا اور ابھی پیش رفت ہی جاری ہے۔
یہ 85 ارب روپے کا خرچہ ہی کیا کم تھا کہ ارکانِ پارلیمنٹ اپنے بڑوں کے لیے 400 فی صد اور اپنے لوگوں کے لیے 100 فی صد اضافہ چاہتے ہیں اور جب عوام معذرت کے ساتھ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بات ہوگی تو 10 فی صد یا 20 فی صد سے آگے فل اسٹاپ۔ آئیے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے یہ عوامی نمائندے اپنے لیے چاہتے کیا ہیں؟ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر 8 لاکھ 90 ہزار روپے کردی جائے جو کہ عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تنخواہ کے مساوی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ایک لاکھ 85 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ 29 ہزار روپے کردی جائے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی تنخواہ کے مساوی ہے۔ ارے بھائی جج صاحبان تو صرف خدا کو جواب دہ ہیں تمہیں تو کل پھر سے عوام کو جواب دہ ہونا ہے۔ ذرا سوچیے۔ کیا آپ کے وزیراعظم کم کام کرتے ہیں جو ہر وقت لوگوں کی دعائوں اور بددعائوں کی زد میں رہنے کی وجہ سے ٹینشن میں ہیں، پھر بھی صرف 2 لاکھ میں گزارہ کررہے ہیں۔ آپ کے چیئرمین اور اسپیکر تو پھر بھی ان سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں اور پھر اضافہ بھی 400 فی صد اپنے بڑوں کی چاپلوسی کے بعد ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں ڈیڑھ لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ کرنے کا بل ایوان بالا میں پیش کردیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ مراعات مانگی گئی ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
(1) ارکان پارلیمنٹ کو ان کے حلقے کے قریب ائرپورٹ سے اسلام آباد تک کے لیے بزنس کلاس کے 20 اوپن فضائی ٹکٹ فراہم کیے جائیں (کیوں بھائی 20 ٹکٹ وہ بھی اوپن کیا کرو گے)
(2) ارکانِ پارلیمنٹ کے 18 سال تک کے بچوں اور اہلیہ کو بھی ملک میں یہ ٹکٹ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
(3) ارکان پارلیمنٹ کی حیثیت سے کسی بھی جگہ سیشن یا کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ٹرین سے سفر کی صورت میں ائر کنڈیشن کلاس کے مساوی رقم دی جائے۔
(4) اگر سفر بذریعہ سڑک ہو تو 25 روپے فی کلو میٹر کے حساب سے الائونس دیا جائے۔
گرچہ یہ بل ایوان بالا میں بحث و مباحثہ کے بعد کثرت رائے سے مسترد کیا جاچکا ہے اور تمام ہی نامی گرامی رہنمائوں نے اس کی مخالفت اور قومی معیشت پر بوجھ قرار دیا ہے مگر… ابھی کچھ ہی دنوں کی بات ہے جب ایسا ہی ایک بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اتفاق رائے سے منظور بھی ہوگیا تو میڈیا اور پریس نے بھونچال کھڑا کردیا۔ پہلے یہ بتادیں کہ اضافہ کتنا ہوا۔
(1) وزیراعلیٰ پنجاب کی تنخواہ میں 2 لاکھ 91 ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ ایک سجایا سجا بنگلا جو عہدے کے خاتمے کے بعد بھی انہی کی ملکیت رہے گا۔
(2) اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ میں ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا اضافہ۔
(3) ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ میں ایک لاکھ 65 ہزار روپے کا اضافہ۔
(4) وزرا کی تنخواہ میں ایک لاکھ 40 ہزار روپے کا اضافہ۔
(5) یوٹیلیٹی الائونس میں 14 ہزار روپے کا اضافہ۔
(6) مہمان داری الائونس میں 10 ہزار روپے کا اضافہ۔
(7) ڈیلی الائونس میں 3 ہزار روپے کا اضافہ۔
عوام کے شور شرابے اور میڈیا پریس کے توجہ دلائو نوٹس کے بعد ہمارے وزیراعظم صاحب نے اپنا اثرورسوخ دکھا کر اس پر عملدرآمد رکوادیا مگر پھر نہ جانے معمولی سی ترمیم کے بعد دوبارہ سے یہ بل اسمبلی میں پاس ہو کر اس پر عملدرآمد بھی ہوجائے تو یہاں بھی یہی ہوگا جب بھی حکومت کو نواز لیگ کے ووٹوں کی ضرورت ہوگی یہ بل باہمی اتفاق سے پاس ہوجائے گا اور یوں تبدیلی کا نعرہ بلند کرکے ووٹ کی غیرت کو پامال کردیا جائے گا۔