بڑے چور لندن چھوٹے جیل جائیں یہ تباہی ہے، عمران خان

303

لیہ/ مظفرگڑھ/ اسلام آباد (صباح نیوز+اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ، آنے والے دنوں میں عوام کو اور خوش خبریاں ملیں گی، قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جب بڑے بڑے لوگ لندن چلے جائیں اور چھوٹے چور کو پکڑ لیں،بڑے لٹیروں کو پکڑنے کاحکم دیدیا ہے، چھوٹے خود ٹھیک ہوجائیں گے۔ کوئی بھی ایسا معاشرہ آگے نہیں بڑھتا جہاں امیر اور غریب میں فرق ہو، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں، احساس پروگرا م غریبوں کے لیے ہے ، ہر مہینے 80 ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے 50 ہزار اسکالر شپس دی جائیں گی،جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے لیہ میں احساس آمدن پروگرام کے تحت احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنائیں، اب تک یہاں جتنی بھی ترقی ہوئی اس سے امیر امیر اور غریب غریب تر ہوگیا، دونوں میں فاصلہ بڑھتا گیا، کوئی بھی ایسا معاشرہ آگے نہیں بڑھتا جہاں امیر اور غریب میں فرق ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرا م غریبوں کے لیے ہے، کفالت کارڈ کے ذریعے بھی ان کی زندگی میں بہتری آئے گی، اس پروگرام کے تحت کمزور طبقے کو وسائل دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی بہترکفالت کرسکیں، ہر مہینے 80 ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے، 50 ہزار اسکالر شپس دی جائیں گی، سڑکوں پر سونے والے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں بنا رہے ہیں جو ملک میں ہرجگہ ہوں گی، 180 پناہ گاہیں بن چکی ہیں، ہماری کوشش ہے کہ کوئی بھی عام آدمی سڑک پر نہ سوئے۔ عمران خان نے کہا کہ غریبوں نے اگر عدالت میں جانا ہوگا تو ان کا وکیل حکومت کی طرف سے ہوگا، 60 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے، اسپتال بنانے کے لیے جو بھی مشینیں منگوانی ہیں ان سے ڈیوٹی ہٹادی گئی ہے جب کہ صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے نظام کی طرف بھی توجہ ہے اوراساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بھی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں بہترین تعلیم کے لیے ایک نصاب رائج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، 70 سال میں جو تعلیم کا نظام بگڑا اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا،عمران خان کا کہنا تھا کہ سرکاری سمیت تمام اسکولوں میں یکساں نصاب کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آئی جی کو کہا ہے کہ جو بڑے بڑے ڈاکو ہیں ان کو پکڑیں، پولیس بڑے چوروں کو پکڑے گی تو چھوٹے خود ٹھیک ہو جائیں گے۔ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جب بڑے بڑے لوگ لندن چلے جائیں اور چھوٹے چور کو پکڑے جائیں۔ عمران خان کاکہناتھا کہ پاکستان مقروض ملک تھا، ہر سال قرضوں کی قسطیں واپس کرنی تھیں، اگر ہم پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرض واپس نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک مشکل وقت سے نکل گیا لیکن آگے آسان زندگی نہیں اور بڑے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، ملک کا خسارہ 75 فیصد کم ہوا، روپیہ بھی مستحکم ہوا ، ملک اب سیدھے راستے پرہے اورآنے والے دنوں میں عوام کو مزید خوشخبریاں ملیں گی،، آج جو کچھ ہوں اپنی والدہ کی وجہ سے ہوں۔انہوں نے کہا کہ احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام پر ثانیہ نشتر کو مبارک باد دیتا ہوں، کمزور طبقے کو وہ ذرائع دیے جائیں کہ وہ خود کو اوپر اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ خواتین کو ایک، گائیں، ایک بھینس اور 3 بکریاں دیں گے تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے جاپان انٹرنیشنل تعاون ایجنسی (جائیکا) کے صدر شنی چی کی تاؤ نے ملاقات کی اورجائیکا کے اقتصادی اور تکنیکی تعاون سے پاکستان میں جاری مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے پاکستان میں جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب نئے مواقع اور مراعات کے علاوہ معیشت کو مستحکم کرنے کی حکومتی کامیابیوں اور کاروباری افراد کے لیے ساز گار ماحول کے حوالے سے کوششوں کو اجاگر کیا۔ مزید برآںوزیراعظم نے لیہ سے واپس آتے ہوئے مظفرگڑھ کا مختصر دورہ کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی ہمراہ تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے مظفرگڑھ تا ڈیرہ غازی خان دو رویہ سڑک اوررجب طیب اردوان اسپتال مظفرگڑھ کے 250 بیڈز پر مشتمل نئے بلاک کا بھی افتتاح کیا۔ قبل ازیں بلجیم کے نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ درست سمت میں چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں، امریکا امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے، طالبان اب امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اگلے مرحلے میں سیز فائر ہو گا اور ممکنہ طور پر معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔