پی ٹی آئی دور میں بجلی ،گیس ،پیٹرول ، آٹا ،چینی سب مہنگا اور ٹیکس میں اضافہ عوام پر ظلم ہے، سراج الحق

202
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق پریس کانفرنس کررہے ہیں، میاں محمد اسلم، نصر اللہ رندھا و دیگر بھی ساتھ ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر عوام پر ظالمانہ ٹیکس لگارہی ہے ،بجلی گیس اور تیل کی قیمتیں آئی ایم ایف کے حکم پر بڑھائی جاتی ہیں۔تبدیلی سرکار کے آنے کے بعد سود میں100 فیصد اضافہ ہوچکا ہے ۔شرح سود 13 فیصد اور مہنگائی 14فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔بجلی کی قیمت میں 100فیصد اور گیس کی قیمت میں 224فیصد کا اضافہ ہوا ،یہ عوام کا معاشی قتل عام ہے ۔خوشحالی اور تبدیلی تشہیری پروگراموں سے نہیں دیانتدار حکمرانوں سے آتی ہے۔ اس حکومت کو 5 سال پورے کرنے کا موقع دیا گیا تو حکومت ہی رہ جائے گی عوام نہیں ہوںگے۔50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں نے پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھول کر دنیا بھر میں ایٹمی پاکستان کے وقار کو دھبا لگایا ہے ۔گیس اور پاور کمپنیاں عوام کا خون چوس رہی ہیں اور حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ خوشخبریاں دینے والے عالمی مالیاتی اداروں نے ہمیشہ کرپٹ حکمرانوں کو سہارا اور پاکستانی عوام کو دھوکا دیا۔ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے ۔جماعت اسلامی عوام کو بے حس حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔مشکل گھڑی میں ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ پیاروں کو نوازنے کا پروگرام بند کرکے آٹے چینی کے بحران اور مہنگائی و بے روزگاری کے خاتمے کی طرف توجہ دیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر تحریک حکومت کی ڈوبتی کشتی میں آخری سوراخ ثابت ہوگی۔ مہنگائی کے خلاف کراچی سے چترال تک ملک بھر میں جلسے جلوس اور مظاہرے کریں گے ،پہلا جلسہ کل بروز اتوار23فروری کو منگورہ میں ہوگا۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر اور سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم اور اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی اور بے روز گاری نے غربت کے مارے عوام کے اوسان خطا کردیے ہیں۔جان سستی اور روٹی مہنگی ہوچکی ہے ۔ وزیر اعظم یوٹیلیٹی اسٹوروں کے دورے کرکے معلوم کررہے ہیں کہ کوئی چیز سستی تو نہیں مل رہی۔چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے مہنگائی 8 سال کی اور پاکستان میں کرپشن کے ناسور کی وجہ سے 10 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے تنگ عوام نے جھونپڑیوں سے نکل کر حکمرانوں کے عالی شان بنگلوں کا محاصرہ کرلیاتو بچ نکلنے کا موقع نہیں دیں گے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کے ٹریک پر جارہی ہے ۔ان ہائوس تبدیلی سے ملک میں دوبارہ چھانگا مانگا کی سیاست اور ممبران کی خرید و فروخت شروع ہوجائے گی۔ایک پر امن اور حقیقی تبدیلی ملک کی ناگزیر ضرورت ہے مگر جب تک انتخابات کا شفا ف اور غیر جانبدار نظام نہیں بنایا جاتا اور عوام کو اپنی مرضی کے نمائندوں کے انتخاب کا موقع نہیں دیا جاتا کوئی بھی تبدیلی کار آمد ثابت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ18 ماہ بعد بھی حکومت سابق حکومتوں کی چوری اور کرپشن کا رونا رو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں میں جائز کام کے لیے اور موجودہ حکومت میں ناجائز کام کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے ۔ کرپٹ لوگوں کے ذریعے کرپشن کا خاتمہ اور چوروں کے ذریعے چوروں کے احتساب کا فارمولا کارگر نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے عوام کو مایوسی اور ناامیدی کے اندھیرے غار میں پھینک دیا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کہتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات یمن ،افغانستان اور ایتھوپیا سے بھی کم ہیں اور اگر ان کو بڑھایا نہ گیا تو ملکی معیشت میں بہتری نہیں آئے گی۔ برآمدات میں تشویشناک کمی کے بارے میں گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان پورا سچ نہیں ۔ پوراسچ یہ ہے کہ نااہل حکمران پہلے گندم اور چینی برآمد کرکے عوام کو نقصان پہنچاتے رہے اور پھر درآمد کرکے عوام پر بوجھ ڈالا گیا۔گندم 29روپے فی کلو کے حساب سے برآمد کرکے کسانوں کو نقصان پہنچایا گیااور اب 70روپے کلو درآمدکرکے عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹ لی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل نظام مصطفیؐ کا نفاذ اور دیانتدار قیادت ہے ۔عوام کے پاس اب جماعت اسلامی کے سوادوسرا کوئی آپشن نہیں ۔