اپوزیشن لیڈر کو بدلنا ہے تو وزیراعظم کو بھی بدلیں،بلاول

101

لاہور (نمائندہ جسارت) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو بدلنا ہے تو وزیراعظم کو بھی بدلیں‘عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان آکر اپنے ہی نمائندوں سے مذاکرات کیے‘ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مانیں‘ یہ ڈیل حکومت کی نالائقی کا ثبوت ہے‘ اس قسم کے سیاست دانوں پر لعنت بھیجتے ہیں جو غریبوں کو لاوارث چھوڑیں۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ روزگار دینے کے بجائے عوام کو بے روز گار کیا جا رہا ہے‘ معاشی فیصلے پاکستان کے عوام کو کرنے چاہئیں‘ عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ یہ حکومت نہیں کرسکتی‘ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لوگوں کو فارغ کر رہی ہے، یہ غریب عوام سے دشمنی ہے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ ملکی معیشت مشکل صورتحال سے دوچار ہے‘ حکومت نے غریبوں کو نہیں امیروں کو سہولت دی‘ شناختی کارڈ کے بغیر شاپنگ اور تجارت نہیں کرسکتے‘ حکومت نے معیشت سے جان نکال دی‘ ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو اہداف سے متعلق غلط بتایا، حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ٹیکس وصولی کا غلط ہدف دیا‘ وزیر اعظم نے سیکورٹی اداروں کو مہنگائی کی تحقیقات کرنے کا کہا‘ کیا ہماری حکومت اتنی نا اہل ہے کہ سیکورٹی اداروں سے مہنگائی کی تحقیقات کرائے گی؟ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عام آدمی سے گھر چھینا جا رہا ہے‘ دکانیں گرائی جا رہی ہیں‘ قومی خزانے کا پیسہ عوام تک نہیں پہنچ رہا‘ حکومت نے پاکستان کی معاشی خودمختاری پر سودے بازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں نہ اپوزیشن لیڈر آرہے ہیں اور نہ ہی وزیراعظم لہٰذا ایوان میں نہ آنے پر اپوزیشن لیڈر بدلنا ہے تو وزیراعظم کو بھی بدلیں۔بلاول زرداری نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے استعفے کے بعد جو بات سامنے آئی ہے وہ اعلیٰ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے‘ اگر خط نہ لکھنے پر وزیراعظم کو گھر بھیجا جاسکتا ہے تو ججوں کی جاسوسی کرنے پر استعفا دینا پڑے گا‘ حکومت نے بالا کوٹ حملے کا بھارتی فوجی چھوڑ دیا‘ احسان اللہ احسان بھی جیل سے بھاگ گیا‘ حکومت گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے نمائشی اقدامات کر رہی ہے۔