پاکستان سمیت دنیابھرمیں 21فروری کومادری زبانوں کا عالمی دن منایاگیا

226

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سمیت دنیابھرمیں 21فروری کومادری زبانوں کا عالمی دن منایاگیا،اس دن کے منانے کا مقصد مادری زبانوں کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا ہے،

ماہرین کے مطابق مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع کی ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے اور ان میں شامل مختلف روایات، منفرد انداز فکر اور ان کا اظہار بہتر مستقبل کے بیش قیمتی ذرائع بھی ختم ہو جاتے ہیں،

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر گلوبلائزیشن پراسس کے باعث بیشتر زبانوں کو لاحق خطرات میں یا تو اضافہ ہو رہا ہے یا وہ ناپید ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی 36 فیصد مادری زبانوں کے خاتمے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجابی دنیا میں بولی جانے والی 12 ویں اور اردو 20 ویں بڑی زبان ہے،

دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں چینی، ہسپانوی، انگریزی، عربی، ہندی اور بنگالی ہیں۔ انگریزی 112 ممالک میں بولی جاتی ہے۔یونیسکو کے مطابق 1950 سے لیکر اب تک230/ مادری زبانیں ناپید ہوچکی ہیں،

جن کو بولنے والا اب کوئی نہیں ہے اٹلس آف ورلڈ لینگویج ان ڈینجر کے مطابق دنیا کی 36/ فیصد (2498)زبانوں کو اپنی بقا کے لئے مختلف النوع کے خطرات لاحق ہیں ایسے خطرات سے دوچار زبانوں میں سے 24فیصد (607)زبانیں غیر محفوظ(جن کا استعمال بچے صرف گھروں تک کرتے ہیں)ہیں۔ 25فیصد (632)ناپیدی کے یقینی خطرے (جنہیں بچے گھروں میں بھی مادری زبانوں کے طور پر نہیں سیکھتے)سے دوچار ہیں،اس کے علاوہ 20فیصد (562) زبانوں کو خاتمہ کا شدید خطرہ (دادا پڑدادا کی زبان جو ماں باپ جانتے ہیں مگر بچے نہیں بولتے)لاحق ہے۔ 21.5 فیصد (538)زبانیں تشویش ناک حد تک خطرات (دادا پڑدادا میں بھی باقاعدگی سے نہ بولی جانے و الی زبان)کا شکار ہیں جبکہ 230تقریبا (10/ فیصد)زبانیں متروک ہوچکی ہیں،

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و ثقافت کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، صوبہ سرحد، بلوچستان، کشمیر، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بولی جانے والی 27چھوٹی مادری زبانوں کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے،

ان میں سے 7زبانیں غیر محفوظ گردانی جاتی ہیں جن کو بولنے والے 87ہزار سے 5لاکھ تک ہیں اس کے علاوہ 14زبانوں کو خاتمے کا یقینی خطرہ لاحق ہے جن کو بولنے والوں کی تعداد کم سے کم 500 اور زیادہ سے زیادہ 67ہزار ہے جبکہ 6 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے 200 سے 5500 کے درمیان ہیں یہ زبانیں ختم ہونے کے شدید خطرے کا شکار ہیں،

مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28ویں نمبر پر ہے جبکہ سب سے زیادہ 196 زبانوں کو بھارت میں خطرات لاحق ہیں امریکا کی 191،برازیل کو 190،انڈونیشیا کی 147 اور چین کی 144 زبانوں کی بقا کو خطرہ ہے۔ زبانوں پر تحقیق کرنے والے امریکی ادارے Enthologue کے مطابق ملکوں کے حوا لے سے انگریزی سب سے زیادہ 112 ممالک میں بولی جاتی ہے،

اس کے بعد 60ممالک میں فرنچ، 57میں عربی، 44میں ہسپانوی اور جرمن بھی 44ممالک میں بولی جاتی ہے جبکہ اردو 23،ہندی 20اور پنجابی 8 ممالک میں بولی جاتی
ہے،

سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق پاکستان میں 48 فیصد آبادی پنجابی، 12فیصد سندھی، 10 فیصد سرائیکی، 8 فیصد پشتو، 8 فیصد ہی اردو، 3فیصد بلوچی، 2فیصد ہندکو ایک فیصد براہاوی جبکہ انگریزی اور دیگر چھوٹی زبانیں 8فیصد بولی جاتی ہیں،

یونیسکو کے مطابق دنیا میں بولی جانے و الی زبانوں کی تعداد 6912ہے۔ دنیا میں بولی جانے و الی 33 فیصد زبانیں ایشیاء اور30فیصد افریقا میں بولی جاتی ہیں۔ دنیا میں دوسری زبان کے طور پر بولی جانے والی سب سے بڑی زبان انگریزی ہے،

کسی ایک ملک میں سب سے زیادہ 820 زبانیں پاپانیوگنی میں بولی جاتی ہیں دنیا میں سب سے پہلی تحریری زبان 3200قبل مسیح کی مصری زبان ہے جبکہ 3500 سالہ قدیم چینی اور یونانی تحریریں آج بھی زندہ ہیں۔