جناح یونیورسٹی میں ناچ گانے کاپروگرام آج ہوگا‘ طالبات اور والدین تشویش میں مبتلا

400
جناح یونیورسٹی کے باہر پیرنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے موزیکل شو رکوانے کا بینر آویزاں ہے، چھوٹی تصویر میں پبلک ایڈ کمیٹی کا وفد شہزاد مظہر کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کررہا ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی ضلع وسطی کے ایک وفد نے شہزاد مظہر کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر سینٹرل سیل ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سیف الحق عثمانی اور احد فریدی بھی موجود تھے، وفد نے ڈپٹی کمشنر سینٹرل سے جناح یونیورسٹی برائے خواتین میں 21 فروری کو منعقد ہونے والے میوزیکل کنسرٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر کو کہا کہ کنسرٹ تعلیمی اداروںکو بے حیائی کے اڈے بنانے کے مترادف ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میںاس قسم کی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات اور نظریہ پاکستان کے منافی ہے، تعلیمی اداروں میں فحش پروگراموں کی اجازت دینا آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے جس کا کوئی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دے سکتا، آئین پاکستان اس اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا، کالج انتظامیہ خواتین کے تعلیمی ادارے میں ناچ گانے کا پروگرام منعقد کرکے اسلامی شعائر اور نظریہ پاکستان کامذاق اڑانے کی کوشش کر رہی ہے، تعلیمی ادارے تو ہماری نوجوان نسل کے کردار اور اخلاق کی تعمیر کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں ناکہ یہ ہماری نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے لیے۔ ہمارے تعلیمی ادارے پہلے ہی زوال پذیر ہیں اور اس میںفحاشی وعریانی کو ترویج دے کر مزید تباہ کیا جا رہا ہے، انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ میوزیکل پروگرام کے بجائے طالبات کے لیے اسلامی اقداراور نظریہ پاکستان سے متعلق پروگرامات کو فروغ دیں تاکہ معاشرے میںپھیلی مایوسی ختم ہو سکے۔دوسری جانب ٹی ایل پی کے رہنماؤں نے حکومت اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فحاشی کے پروگرامات سے باز نہ آئے تو نتائج کے ذمے دار خود ہوں گے۔