ارد وان کا سوز

289

ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردوان‘ گزشتہ دنوں دو روزہ دورہ پر پاکستان پہنچے‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی ان کی سرکاری مصروفیت کا حصہ تھا‘ پاکستان کی پارلیمنٹ سے یہ ان کا چوتھا خطاب تھا‘ ان کا ہر خطاب بے مثال ہے تاہم اس بار تو انہوں نے کمال ہی کردیا‘ مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے پانچ اگست کے المیے کے بعد وہ پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا‘ ان کے خطاب میں وہ سب کچھ تھا جو یہاں کا ایک عام آدمی اس ملک‘ امت مسلمہ اور کشمیر کے لیے سوچتا ہے۔ اردوان کہتے ہیں کہ کشمیر پر ترکی کا وہی موقف ہے جو پاکستان کا ہے۔ پاکستان کے عوام کا موقف ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق رائے شماری کے لیے دنیا کے ہر فورم پر ان کی سیاسی‘ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، پاکستان کی کوئی حکومت کشمیری عوام کے لیے پاکستان کے عوام کے اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی‘ اردوان نے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرکے گویا پاکستانی عوام کے موقف کو درست‘ اور انصاف پر مبنی قرار دیا اور تسلیم کیا ہے۔ یوں ترکی اور پاکستان کے عوام کا موقف یہی ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر عالمی فورم پر کرتے رہیں گے۔
پاکستان اور ترکی آج سے نہیں‘ برس ہا برس سے ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں‘ کسی زمانے میں دو نوں آر سی ڈی جیسے ترقی کے لیے باہمی تعاون کے معاہدے کا حصہ تھے‘ ایران بھی اس معاہدے میں شامل تھا‘ ترکی کشمیر کے لیے قائم ہونے والے او آئی سی کے کنٹریکٹ گروپ میں بھی شامل رہا ہے۔ کشمیر کے لیے صدر اردوان کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ترکی اس حمایت کو اپنے قومی مفاد کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے‘جناب رجب طیب اردوان‘ کے کسی بھی فورم پر کیے گئے خطاب سن لیں‘ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں‘ ان کے کسی خطاب میں ہمیں تاریخ سے عدم واقفیت نہیں ملے گی‘ ان کا ہر خطاب مدلل
اور مستند تاریخی حوالے سے بھرا ہو ملتا ہے‘ اسلام‘ دین اور تہذیبوں سے ان کی واقفیت اور علمی عبور قابل رشک ہے۔ ایک ہمارے وزیر اعظم ہیں‘ جو کبھی سیکڑوں میل دور ملکوں کی سرحدیں آپس میں ملادیتے ہیں اور کبھی ہندوستان پر حکمران رہنے والوں کی نئی تاریخ بیان کردیتے ہیں‘ انہیں کسی بھی بات کا کچھ علم نہیں ہے‘ ان کے پاس صرف جذبات بھڑکانے والے جملے ہیں‘ سوچ کر بولنا اور بول کر سوچنا‘ دونوں میں بڑا ہی فرق ہے۔ لیڈر شپ کوالٹی کے لیے مہارت‘ علم‘ عقل و فہم‘ تاریخ سے واقفیت‘ جرأت‘ دیانت داری یہ سب بنیادی اوصاف ہیں‘ اردوان کہتے ہیں کہ کشمیر پر ترکی کا وہی موقف ہے جو پاکستان کا ہے‘ سفارتی زبان بہت محتاط ہوتی ہے‘ اس کے ذریعے بیک وقت بہت سے پیغام دیے جاتے ہیں‘ لیکن دنیا بھر میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ دنیا میں سفارتی تعلقات حکومتوں کے مابین نہیں بلکہ ملکوں اور عوام کے درمیان ہوتے ہیں پاکستان کے عوام کا کشمیر کے لیے بہت ہی واضح موقف ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ جو کنٹرول لائن کے پار جائے گا وہ کشمیر کا غدار ہوگا۔ پوری قوم ان کے اس بیان پر تشویش میں مبتلا ہوئی تھی اور اب بھی ہے‘ سفارتی اصول یہ بتاتے ہیں کہ جناب اردوان نے پاکستان کے عوام کے موقف کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ بھی کیا ہے اور اس کا اعلان بھی کردیا ہے‘ اب ہماری ذمے داری ہے‘ اور ہماری پارلیمنٹ کی ذمے داری ہے کہ وہ کشمیر پر ملنے والی ترک صدر کی واضح تائید اور حمایت کو اس خطہ میں اپنے حق میں کس طرح استعمال کرتی ہے۔ ترک صدر کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان تشریف لائے‘ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی
حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی ہے‘ پاکستان کے عوام کا مقدمہ یہ ہے کہ کشمیری کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار ملنا چاہیے‘ وہ جس بھی اذیت سے گزر رہے ہیں کہ یہ اذیت اسی مطالبے کی پاداش میں مل رہی ہے‘ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان اور ترکی کی مشترکہ آواز سنے اور اس پر توجہ دے‘ کہ پاکستان اور ترکی‘ دونوں عالم اسلام اور اقوام عالم کے دو بڑے غیر معمولی اہمیت کے حامل ملک ہیں۔
برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں جموں و کشمیر کا مسئلہ سامنے آیا۔ بھارت نے یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جس نے متفقہ فیصلہ کیا کہ کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے حقِ خود ارادیت کے استعمال کا موقع دیا جائے وہ اپنی آزادانہ مرضی سے فیصلہ کریں کہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت میں۔ بعد میں بھی کئی بار کونسل نے اس قرار داد کی توثیق کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عالمی برادری خصوصاً بڑی طاقتیں جن کا اپنا مفاد ہو تو برسوں اور مہینوں نہیں، دنوں میں اسرائیل، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسی ریاستیں اسلامی دنیا کے نقشوں میں گاڑ دیتی ہیں، اس قرار داد پر عمل کراتیں اور آج کشمیری عوام آزادی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے مگر پاکستان اور بھارت میں تین بڑی جنگوں اور 72سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو آج بھی یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلہ پر اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کیا جائے، زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کے فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے اس نے 200دنوں سے مقبوضہ ریاست کے 80لاکھ انسانوں کو لاک ڈائون کے ذریعے یرغمال بنا رکھا ہے اور 9لاکھ بھارتی فوج سرچ آپریشن کے نام پر ان کا قتل عام کر رہی ہے۔ عالمی برادری اس حقیقت کا اعتراف تو کرتی ہے مگر بھارت پر دبائو ڈالنے کے لیے کوئی عملی کارروائی نہیں کرتی، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی کہنا پڑ رہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے بنیادی حقوق کا ویسا ہی احترام کرے جیسا پاکستان آزاد کشمیر میں کررہا ہے اور مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرے مگر یہ زبانی جمع خرچ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے باہمی ملاقات کے دوران انتونیو گوتریس کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جابرانہ اقدامات، ایل او سی اور ورکنگ بائونڈریز پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں اور جنگ کی دھمکیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا اور وزیراعظم عمران خان بھی اس معاملے کی نزاکت واضح کر چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار ثالثی کی پیشکش کی ہے بشرطیکہ بھارت بھی آمادہ ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار داد بھارت ہی کی درخواست پر منظور ہوئی تھی اب یہ معاملہ اس کی صوابدید پر چھوڑنے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے اس پر عملدرآمد کرائے اور مظلوم کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دلائے۔