پاکستان کا حکمران طبقہ اور ’’ترک‘‘ کی روایت

522

پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا ہے کہ مشرقی پاکستان میں قربانیاں دینے والوں کا ریاست نے اس طرح خیال نہیں رکھا جس کے وہ حقدار تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کو جائز حقوق دے گی۔ وہ قومی اسمبلی میں توجہ دلائو نوٹس کے حوالے سے گفتگو کررہے تھے۔ اس نوٹس میں بھارت اور مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کے حقوق کی جانب توجہ دلائی گئی تھی۔ اس موقعے پر رکن قومی اسمبلی صلاح الدین نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے کے باوجود پاکستان سے محبت کرنے والے تین ماہ تک مزاحمت کرتے رہے مگر پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کو بھلادیا گیا۔
علی محمد خان نے زیر بحث مسئلے کے حوالے سے خوامخواہ ریاست پاکستان کا نام لیا۔ اس لیے کہ مسئلہ ریاست کا نہیں ریاست کو چلانے والی اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ امریکا کے سابق وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے ایک بار کہا تھا کہ امریکا کی دشمنی خطرناک ہے مگر امریکا کی دوستی جان لیوا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی دشمنی خطرناک ہے مگر دوستی جان لیوا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے البدر اور الشمس تخلیق کیں۔ البدر اور الشمس کے نوجوانوں نے جان کی بازی لگا کر ملک کا دفاع کیا۔ البدر اور الشمس میں بڑی تعداد بنگالی نوجوانوں کی تھی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوئے تو اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ بنگالیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ چناں چہ مانگنے کے باوجود البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو اسلحہ مہیا نہ کیا گیا۔ لیکن البدر اور الشمس کے نوجوانوں نے غیر مسلح ہونے کے باوجود مادرِ وطن کے دفاع میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ میجر صدیق سالک کی تصنیف ’’میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی جرنیل سقوط ڈھاکا سے ایک ہفتے پہلے ہی حوصلہ ہار چکے تھے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ بالآخر انہوں نے 16 دسمبر 1971ء کو ہتھیار ڈال دیے مگر انہوں نے البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو اپنے فیصلے سے مطلع کرنا ضروری نہ سمجھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوجی تو بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال کر متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ’’محفوظ‘‘ ہوگئے مگر البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو مکتی باہنی کے لوگوں نے چن چن کر شہید کیا۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک بار جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جرنیلوں کو بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہی تھے تو ہمیں بتادیتے تا کہ ہم اپنے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے کچھ کرتے۔ مشرقی پاکستان میں ایسے لاکھوں پاکستانی تھے جنہیں عرف عام میں ’’بہاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ بھی مادرِ وطن کے دفاع کے حوالے سے پاک فوج کے ’’اتحادی‘‘ تھے۔ مگر ان کو بھی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک بنگلادیش میں پھنسے ہوئے بہاریوں کو آج تک پاکستان نہیں لایا جاسکا۔ ان پاکستانیوں کو بنگلادیش کی حکومت نے کئی بار شہریت دینے کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کردیا۔ یہ انسانی المیہ آج تک ہمارے حکمران طبقے کی شرمناک تاریخ کے تعاقب میں ہے۔
انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ملک مشرق میں بن رہا ہو اور اس کے لیے مغرب کے لوگ جدوجہد کررہے ہوں۔ پاکستان اتنا غیر معمولی ’’Idea‘‘ تھا اس کے لیے یہ کام بھی ہوا۔ پاکستان پنجاب، سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور بنگال میں بن رہا تھا اور اس کی تحریک دلی، یوپی اور سی پی میں چل رہی تھی۔ قائد اعظم کو ہندوستان کے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی اس بے مثال خدمت کا پورا شعور تھا۔ اسی لیے انہوں نے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو ’’مینارئہ نور‘‘ قرار دیا ہے۔ انہیں بھارت کے مسلمانوں کی اتنی فکر تھی کہ آل انڈیا مسلم کانفرنس کے آخری اجلاس میں انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ اجلاس ایک قرار داد منظور کرلے
تو وہ بھارت جا کر ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں صاف کہا ہے کہ اگر بھارت نے مسلم اقلیت کے ساتھ بُرا سلوک کیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا بلکہ مسلح مداخلت کرے گا۔ لیکن پاکستان کے حکمران طبقے نے قائد اعظم کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد بھارت کے مسلمانوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ بھارت کے مسلمانوں کا ایک ہی جرم ہے کہ انہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ آج بھی بھارت میں ایسے سیکڑوں علاقے ہیں جنہیں ہندو ’’Mini Pakistan‘‘ کہتے ہیں مگر پاکستان کے حکمران طبقے کے لیے اس بات کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ ہمارا حکمران طبقہ اپنی کھال اور اپنے مال میں مست ہے۔ حالاں کہ اس کی کھال بھی حرام سے بنی ہے اور مال بھی حرام سے مہیا ہوا ہے۔ ہمارے اسٹیبلشمنٹ زدہ دانش ور اکثر کہتے ہیں کہ بھارت نے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے لیے مشرقی پاکستان کی ہندو آبادی کو استعمال کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان توڑنے کے لیے مشرقی پاکستان کی ہندو آبادی کو استعمال کرسکتا ہے تو پاکستان کا حکمران طبقہ بھارت کو توڑنے کے لیے بھارت کے مسلمانوں کو کیوں استعمال نہیں کرسکا؟ حالاں کہ مشرقی پاکستان میں ہندو آبادی کا چھ سات فی صد تھے اور بھارت میں مسلمان آبادی کا 20 فی صد ہیں۔
بلاشبہ خالصتان کی تحریک اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق تھی۔ اسی تحریک نے بھارتی پنجاب میں گہری جڑیں پیدا کر لی تھیں۔ اس کی قبولیت کا دائرہ وسیع ہورہا تھا۔ سکھ بھارت کی مجموعی آبادی کا صرف دو فی صد ہیں مگر وہ بھارت میں بہت طاقت ور ہیں۔ چناں چہ خالصتان تحریک بھارت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی تھی مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے تحریک کے اہم مرحلے پر سکھوں کی تحریک کے اہم رہنمائوں اور کارکنوں کی فہرست بھارت کے حوالے کردی۔ نتیجہ یہ کہ بھارت نے چند ماہ میں پوری تحریک کو سمیٹ کر رکھ دیا۔ ایک زمانہ تھا کہ میاں نواز شریف کہا کرتے تھے کہ سکھوں کی فہرست بے نظیر بھٹو نے بھارت کے حوالے کی۔ اس سلسلے میں پی پی پی کے رہنما چودھری اعتزاز احسن کا نام لیا جاتا تھا جو بے نظیر کے دور حکومت میں ملک کے وزیر داخلہ تھے۔ چودھری اعتزاز احسن سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ نے سکھوں کی فہرست بھارت کے حوالے کیوں کی۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ کیا میں ایسا کرکے پاکستان میں رہ سکتا تھا؟ اس بات کے دو ہی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ چودھری اعتزاز احسن نے سکھوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی ہی نہیں۔ اس بات کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے فہرست بھارت کو کسی کے کہنے پر دی۔ بہرحال یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے جس طرح البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو ’’ترک‘‘ کیا، جس طرح اس نے بہاریوں اور بھارت کے مسلمانوں کو ’’ترک‘‘ کیا، اس طرح اس نے خالصتان تحریک کے رہنمائوں اور کارکنوں کو بھی ’’ترک‘‘ کر ڈالا۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کی تحریک مسلح جدوجہد کی تاریخ نہیں تھی مگر ہمارے حکمران طبقے کے زیر اثر انہوں نے مسلح جدوجہد کو اوڑھنا بچھونا بنایا اور بھارت کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا۔ کشمیریوں سے کہا گیا تھا کہ جب تم اپنی تحریک کو متحرک کی بلند سطح پر لے آئو گے تو پاکستان تمہاری مدد کرے گا لیکن جب کشمیریوں نے یہ کام کر دکھایا تو ان سے کہا گیا کہ کشمیر کے لیے پاکستان کو دائو پر نہیں لگایا جاسکتا۔ بلاشبہ پاکستان کے حکمران طبقے نے ابھی تک کشمیر کو ’’ترک‘‘ کرنے کا اعلان نہیں کیا مگر ہمارے حکمران طبقے نے کشمیر کو ’’اختیار‘‘ بھی نہیں کیا ہوا۔ ہم نے بھارت کی مزاحمت کا سارا بوجھ اہل کشمیر پر ڈالا ہوا ہے۔
طالبان کی کہانی بھی راز نہیں۔ جنرل نصیر اللہ بابر نے طالبان کو تسلیم کرانے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تو انہوں نے ان ملکوں کے رہنمائوں سے کہا کہ آپ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلیں کیوں کہ طالبان ’’ہمارے بچے‘‘ ہیں۔ لیکن نائن الیون کے بعد ہم نے ’’اپنے بچوں‘‘ کو ترک کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ ہم نے طالبان کے اہم رہنمائوں کو پکڑ پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا۔

ہم افغانستان کے سفیر ملا ضعیف کے اس ’’سفارتی تحفظ‘‘ کو بھی روند ڈالا جو متعلقہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے انہیں حاصل تھا۔ حد یہ کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی تصنیف ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں اس بات پر فخر کیا ہے کہ انہوں نے سیکڑوں مجاہدوں کو پکڑ پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا اور کروڑوں ڈالر کمائے۔
اس سلسلے کی تازہ ترین واردات یہ ہے کہ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 11 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ ان پر دہشت گرد جماعت کا حصہ ہونے، غیر قانونی جائداد رکھنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزامات تھے۔ ہم نے حافظ سعید کی سزا کے حوالے سے ایک صاحب سے بات کی تو کہنے لگے کہ شاہنواز بھائی اس وقت پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے بڑا دبائو ہے۔ ہم نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر ’’تعلق‘‘ کا پتا تو دبائو میں چلتا ہے۔ بلاشبہ جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پھانسی نہیں چڑھادیا تھا مگر جنرل پرویز نے ڈاکٹر قدیر کی تکریم کو مٹی میں ملانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ بلاشبہ حافظ سعید کو بھی کالے پانی کی سزا نہیں ہوئی ہے مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے ان کے سلسلے میں بھی ’’ترک‘‘ کی شرمناک روایت کو برقرار رکھا ہے۔