کورونا وائرس چین کے بعد جنوبی کوریا پہنچ گیا،اقدمات سخت

358
سیئول: جنوبی کوریا میں امدادی اہل کار کورونا وائرس کی نئی قسم کے انکشاف کے بعد وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کررہے ہیں

بیجنگ ؍ سیئول (انٹرنیشنل ڈیسک) چین میں 2 ہزار سے اموات کا باعث بننے والے خطرناک کورونا وائرس کی نئی قسم جنوبی کوریا تک پہنچ گئی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی کوریا میں درجنوں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام اور ماہرین سخت پریشان ہیں۔ اس حوالے سے 25 لاکھ نفوس پر مشتمل شہر ڈیگو کے میئر نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق شہر اور قرب و جوار کے دیہاتوں میں ایک دن میں 40 نئے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ دوسری جانب ایران میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے ۔ بی بی سی کے مطابق وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ایران کے شہر قم کے ایک اسپتال میں علاحدہ رکھا گیا ہے جب کہ وبا کے مزید پھیلنے کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے اور جامعات بھی بند کردی گئی ہیں۔ ایرانی وزارت صحت نے قم میں 2 افراد کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ اُدھر چینی محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ملک میں ایک دن کے دوران مزید 114 افراد ہلاک ہو گئے ہیں زیادہ تر ہلاکتیں صوبہ ہوبئی میں ہوئی۔ تازہ اعداد شمار کے مطابق چین میں وبا سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 1 سو 18 ہو گئی ہے جبکہ مزید 394 افراد کے بیمار ہونے کے بعد متاثرین کی تعدد بڑھ کر 74 ہزار 576 تک پہنچ گئی ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے اجلاس کے موقع پر لاؤس میں بات کرتے ہوئے وانگ یی کا کہنا تھا کہ افراتفری اور عالمی سطح پر پھیلنے والی تشویش کے باوجود وائرس کی یہ قسم قابل علاج ہے اور اس کے پھیلاؤ پر قابو پانا بھی ممکن ہے۔ اُدھر سعودی مرکز صحت نے اپنے شہریوں کو وائرس کے خطرے کے پیش نظر سنگاپور نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔