حکمرانوں کوپاکستان پر جانیں قربان کرنے والوں کی قدر نہیں ، سینیٹرسراج الحق

152

 

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے بھارتی فوجوں کا مقابلہ کرنے اور نظریہ پاکستان پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں کی حکمرانوں نے قدر نہیں کی ۔ حقیقی اپوزیشن صرف جماعت اسلامی ہے ۔

سینیٹرسرا ج الحق نے بنگلہ دیش میں ددوران اسیری جیل میں وفات پانے والے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیرو سابق رکن پارلیمنٹ بنگلہ دیش مولانا عبدالسبحان کی یاد میں منصورہ میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کیا،جس کے بعد انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو گالی دینے پر جان بخشی کرنے کے لالچ کو قبول نہ کر کے انہوںنے شہادت جیسے عظیم راستے کا انتخاب کیا ۔ آج وہ لوگ خود اپنے لیے بوجھ بن گئے ہیں، جو بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر لٹکائے جانے والوں کی مد د کرنے کی بجائے اسے بنگلہ دیش کا اندرونی اور جماعت اسلامی کا مسئلہ قرار دے رہے تھے۔ مولانا عبدالسبحان جماعت اسلامی کے رہنما ہی نہیں ، پانچ بار بنگلہ دیش قومی اسمبلی کے منتخب نمائندے بھی تھے۔ پھانسی کی سزاؤں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو بنگلہ دیش میں دی جانے والی پھانسیاں کیوں نظر نہیں آ رہی ہیں ۔

سینیٹر سرا ج الحق کامزید کہناتھاکہ بنگلہ دیش میں مودی کے ایما پر پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کا صرف ایک جرم تھا کہ وہ پاکستان کو صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ نظریہ اور عقیدہ سمجھتے تھے ۔ اس وقت وہ پاکستان کے شہری تھے ۔ حب الوطنی کا یہ تقاضا تھاکہ وہ پاکستان کی حفاظت کے لیے بھارتی فوجوں کا مقابلہ کرتے ، ان بزرگوں نے پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کردیا۔

حکومت کی گرفت ختم ہوچکی ہے، اب حکومت پر کوئی آنسو بہانے والا بھی نہیں ۔ خراب حکومتی کارکردگی نے مسائل میں اضافہ کیاہے ۔کوئی چاہے یا نہ چاہے، دس دن بعد مارچ آنے والا ہے ۔حکومت کا خاتمہ بالخیر قریب ہے ۔ اپوزیشن تقسیم ہے اور بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے اپنے مسائل ہیں ، انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ ان کے قریب ملک و قوم کا مسئلہ ثانوی حیثیت رکھتاہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کا پہلا مسئلہ مہنگائی اور دوسرا بے روزگاری ہے ۔ ہم شہزادوں اور شہزادیوں کی نہیں ، عوام کی بات کرتے ہیں ۔ حکومت کو ووٹ اور سپورٹ دینے والے اب پریشان ہیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں ۔