ارشد محمود ملک ایئر فورس چھوڑ کر مستقل پی آئی اے میں آجائیں، سپریم کورٹ

91

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیپوٹیشن پر سربراہ کی تقرری غیرقانونی ہے، ارشد ملک سے پوچھ لیں وہ کون سا عہدہ رکھنا چاہتے ہیں،وہ ایئرفورس کی سروسز سے دستبردار ہو کر مستقل پی آئی اے میں آجائیں۔

سپریم کورٹ میں پی آئی اے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت میں پی آئی اے کے جرمنی میں بھیجے گئے طیارے کا ذکر آیا،پی آئی اے بورڈ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جہاز مالٹا میں فلم کی شوٹنگ کیلئے استعمال ہوا جس کے بعد جرمنی گیا، شوٹنگ کی مد میں ادارے کو دو لاکھ دس ہزار یورو ملے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ ہوا تھا کہ جہاز کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوگا، فلم بنانے والی کمپنی اسرائیلی تھی، یہ بہت سنجیدہ بات ہے، جن پیسوں میں جہاز بیچا گیا اس سے دس گنا زیادہ اخراجات ادا کیے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے نے اپنا ایک جہاز ہی بھگوا دیا اور مزید چار جہاز بھی گراؤنڈ کیے ہیں، رپورٹ میں تین اور جہازوں کا بھی ذکر ہے، یہ تین جہاز کہاں گئے کسی کو کوئی پتا نہیں، کیا باقی تین جہاز کھول کر کباڑ خانے میں تو نہیں دے دئیے، چار جہاز چلے گئے پی آئی اے انتظامیہ کو خبر تک نہیں، اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اپنےعلاج کیلئے جہاز کو لندن لے گئے، پی آئی اے کا جہاز انکے علاج تک لندن کھڑا رہا، عدالت کو سب معلوم ہے ہمارا حافظہ کمزور نہیں، ہم نے جانا ہو تو جہاز ملتا ہے نہ ٹکٹ۔

پی آئی اے کے وکیل نے کہا کہ تین جہازوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈیپوٹیشن پر سربراہ کی تقرری غیرقانونی ہے، ایک کام ہوگا، ارشد ملک پی آئی اے میں کام کریں یا ایئر فورس میں،ارشد ملک سے پوچھ لیں وہ کون سا عہدہ رکھنا چاہتے ہیں۔

وکیل نعیم بخاری نے سی ای او ارشد محمود ملک سے ہدایات لینے کیلئے وقت مانگ لیا۔ عدالت نے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔