کراچی پریس کلب میں صحافیوں کیلئے تحقیقاتی صحافت کے عنوان سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،

135

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری)کراچی پریس کلب کے زیراہتمام صحافیوں کیلئے تحقیقاتی صحافت پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی،

ورکشاپ میں صحافیوں کو تحقیقاتی صحافت، معلومات تک رسائی کے قانون اور تحقیقاتی صحافت کے لیے اس قانون کا استعمال اور بہتر رپورٹنگ پر خصوصی تربیت دی گئی،سینئر صحافی عامر احمد خان نے تحقیقاتی صحافت اور تحقیقاتی رپورٹنگ کے بنیادی خدو خال سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے دنیا میں استعمال ہونے والے نئے ٹرینڈز اینڈ ٹولز کے بارے میں بتایا،

انہوں نے کہا کہ پہلے کسی رپورٹر کو اپنی رپورٹ بنانے کے بعد اسے چھاپنے اور نشر کرنے کے لیئے دوسرے افراد پر انحصار کرنا پڑتا تھا تاہم اب ڈیجیٹل میڈیا کے آنے کے بعد آپکو کسی پر بھی انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے،ڈیجیٹل میڈیا پر آنے والے رپورٹس صرف کسی ایک شہر یا ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے اس لیئے اب پوری دنیا آپکی آڈینس ہے۔تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے آنے کے بعد مقابلے کی فضاپیدا ہو گئی ہے اور اب وہی رپورٹ پڑھی اور دیکھی جائے گی جسمیں تحقیقاتی رپورٹنگ کے تمام اجزا شامل ہوں گے،

ریڈیو اور ٹی وی پر اپنے منفرد انداز میزبانی اور چالیس برس تک بی بی سی کے ساتھ منسلک ر ہنے والے معروف صحافی و تجزیہ کار شفیع نقی جامعی نے تحقیقات کی رپورٹنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور تحقیقاتی صحافت کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا،تحقیقاتی رپورٹنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع نقی جامعی نے کہا کہ ہر شعبے میں صحافی کو کہیں نہ کہیں تحقیقاتی صحافت کا استعمال کرنا پڑتا ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ جس کے بارے میں رپو رٹنگ کی جا رہی ہو اس کے بارے سے مکمل آگاہی ہونا ضروری ہیں۔ نیوز چینلز اور رپورٹرز کو بریکنگ نیوز کی دوڑ میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ حقائق مسخ نہ ہوں اور خبر کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے،

انہوں نے تحقیقاتی صحافت کے حوالے سے اپنی بہت سی رپورٹ مثال کے طور پر بیان کی ہیں،انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی صحافی کو ہمارے میڈیا میں کوئی جگہ نہیں ملتی جبکہ متنازعہ رپورٹس کو لوکل میڈیا میں جگہ اور وقت دونوں ملتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اور صحافت کا کردار موجودہ دور میں انتہائی اہم ہے۔ میڈیا کو نمایاں طور پر نگران، عوامی مفاد کے محافظ، حکمران اور عوام کے درمیان ایک پل اور شہریوں کیلئے اپنی آرا بیان کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ انکا کردار ہماری سوسائٹی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں سرکاری اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنا، شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنا، شہریوں اور حکمرانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے۔ اسکے علاوہ شہریوں کو معلومات فراہم کرنامیں میڈیا انتہائی اہم کردار کا حامل ادارہ ہے۔ورکشاپ میں صحافیوں کو معلومات تک رسائی کے قانون، سندھ میں شفافیت اور معلومات کے حق کا قانون 2016 کے تحت درخواست دینے کے طریقہ اور تحقیقاتی صحافت کے لیے اس قانون کے ا ستعمال اور بہتر رپورٹنگ پر خصوصی تربیت دی گئی۔

ورکشاپ کہ اختتا می سیشن میں صحافیوں کو معلومات تک رسائی کے حوالے سے قانون کے بنیادی اصولوں کے بارے میں آگاہ کیا اور تحقیقاتی صحافت کے دوران اسے عوامی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ ایک صحیح معلومات اپکے لیے نئے دروازے کھولتا ہے جبکہ یہ فیصلہ آپ کا ہوتا ہے آپ کس چیز کو کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ورکشاپ کہ اختتام پر کراچی پریس کلب کے سیکرٹری ارمان صابر اور جوائنٹ سیکر ٹری ثاقب صغیر نے تربیتی ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر شفیع نقی جامعی اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ورکشاپس کے انعقادسے صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے اہم آگاہی حاصل ہوتی ہے، ورکشاپ کے بعد صحافیوں کو تحقیقا تی صحافت مزید موئثر طریقے سے انجام دینے میں مدد ملے گی،انہوں نے کہا کہ کر اچی پریس کلب آئندہ بھی اپنے ارکان کے لئے اس طرح کی ورکشاپ کا انعقاد کرتی رہی گی۔ آخر میں کراچی پریس کلب کے سیکر ٹری ارمان صابر،جو ائنٹ سیکرٹری ثاقب صغیر، سابق سیکر ٹری اے ایچ خانزادہ،عامر لطیف، خازن راجہ کامران اور زین علی نے ورکشاپ میں شریک شرکاء کو اسناد پیش کئے۔