عظیم اسلامی مفکر علامہ محمد اسد کو بچھڑے 38 سال ہوگئے

204

دنیائے اسلام کی مایہ ناز شخصیت اور شہرہ آفاق تصنیف ‘ دی روڈ ٹو مکہ ‘ کے مصنف علامہ محمد اسد کی آج برسی منائی جارہی ہے۔

علامہ محمد اسد مفکر و مصلح، باصلاحیت مفسر، محقق اور مورخ تھے۔

محمد اسد یوکرین کے شہر لیویو میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام لیو پولڈویز رکھا گیا۔ نوعمری میں تورات اس کی تفسیر اور دیگر یہودی کتب کا مطالعہ کیا۔ سن 1920 میں جرمنی کا رخ کیا اور صحافت کے میدان میں قدم جمائے، اور ایک خبر رساں ادارے سے جڑ گئے۔

سن 1922 میں اپنے ماموں کی دعوت پر فلسطین پہنچے جہاں ان کو پہلی مرتبہ اسلامی طرز زندگی کا مشاہدہ کرنے کو ملا۔ وہ فلسطینیوں پر صیہونی غلبے سے متنفر تھے جس کے باعث وہ فلسطین میں ہی ایک جرمن اخبار کے نمائندے بن گئے اور صیہونیت کے خلاف لکھنا شروع کردیا۔

محمد اسد کا چونکہ صحافت کے شعبے سے تعلق تھا تو ان کو شام، عراق، ایران، اور مسرقی ایشیا کا سفر کرنے کا موقع ملا جہاں انہوں نے مزید اسلام کو جانا اور بالاآخر برلن اسلامک یونیورسٹی میں اسلام قبول کیا۔ انہوں نے ایک بیوہ جرمن خاتون ایلسا سے شادی کی تھی جو اپنے شوہر کے بعد خود بھی اسلام کی دولت سے بامشرف ہوئیں لیکن حج کی سعادت حاصل کرنے کے چند روز بعد ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔

علامہ محمد اسد سن 1932 میں ہندوستان آئے اور پاکستان کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان بننے کے بعد وہ وزارت خارجہ سے بھی منسلک رہے اور مسلم ممالک سے روابط و تعلقات کو مضبوط کرنے میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی احسن انجام دیا۔

80 سال کی عمر میں محمد اسد نے قرآن پاک کا مکمل انگریزی ترجمہ اور تفسیر لکھی اور اسپین میں اپنے ایک قیام کے دوران اس داعی اجل کو لبیک کہا۔

علامہ محمد اسد کی مشہور تصانیف میں ‘دی روڈ ٹو مکہ’ ، ‘اسلام ایٹ دی کراس روڈ’ ، ‘پرنسپل آف اسٹیٹ اینڈ گورننس ان اسلام’ ، ‘دی مسیج آف اسلام’ اور صحیح بخاری کا انگریزی ترجمہ شامل ہے۔