سابق فاٹا کی ترقی کے لیے مختص34ارب ڈالر کہاں گئے؟، لیاقت بلوچ

108

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عوام کاسوال بر حق ہے کہ سابق فاٹا کی ترقی کے لیے 34 ارب ڈالر لیے گئے ، عوام گھروں سے بے گھر ہوئے لیکن یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا ؟۔انہوںنے کہاکہ قبائلی عوام پاکستان کے بازوئے شمشیر زن ہیں انہیں زندگی کی تمام سہولتیں ترجیحی بنیاد پر دی جائیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جنوبی وزیرستان کے طلبہ اور نوجوانوں کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔ وفد نے قبائلی عوام کو درپیش مسائل بیان کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم ، روزگار، ترقیاتی کام اور صحت کی سہولیات نہ ہونے سے عوام محب دین اور محب وطن ہونے کے باوجود محرومیاں پارہے ہیں ۔علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے زیراہتمام علمی و فکری نشست میں پاک ایران تعلقات اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے لیکچر دیتے ہوئے کہاکہ امریکا ، یورپ اور یہود و ہنود سے کسی خیر کی توقع نہیں ، عالم اسلام کو متحد ہو کر اپنے دفاعی ، سیاسی ، اقتصادی ، علمی تحقیق اور ذرائع ابلاغ کے مسائل حل کرنا ہوں گے ۔ خطے میں پاکستان ایران و افغانستان کے بارڈر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، ان کے درمیان مشترکہ ترجیحات کے ذریعے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملائیشیا کانفرنس ادھوری رہی، پاکستان میں ہی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے عالم اسلام کے اتحاد کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے ۔ اس موقع پر چیئرمین خالد محمود اور کوآرڈی نیٹر عبدالرئوف طاہر نے لیاقت بلوچ کا خیر مقدم کیا ۔