حقوق نسواں: اسلام بمقابلہ مغرب آخری حصہ

289

حالانکہ اس وقت ہم کو اس کی شدید ضرورت تھی مگر اس کی ممتا نے اس کی عیاشیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور ہم سب کو اکیلا چھوڑ کر چلتی بنی اب جب کہ اس کو ہماری ضرورت ہے تو اس کو اس کا ماضی یا د دلانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی اس کو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ یہ ہے وہ کشمکش جو پورے امریکا اور یورپ میں پھیلی ہوئی ہے مگر کفار کو ہماری خواتین کے حقوق کی بڑی فکر لگی ہوئی ہے حالانکہ ہماری خواتین نے تو کبھی انگریز کو خط نہیں لکھا کہ آئو اور ہم کو ہمارے حقوق ظالم مردوں سے دلوائوں انگریز خود ہی ہمارے معاشرے سے لادین ذہنیت کے مصنفین، شاعر، دانشور سیاستدان، صحافی، تجزیہ نگار، بیوروکریٹس، اعلیٰ حکام اور ہر سطح سے اپنے مطلب کے افراد کو اکھٹا کر کے بیانات اخبارات میڈیا ڈراموں کے ذریعے سے خواتین کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی ناپاک سازشوں میں لگا ہوا ہے جس میں مخلوط تعلیم سیکولر نصاب تعلیم ذہنی پراگندہ مواد سے بھرے ہوئے ڈرامے۔
دور حاضر کی بھارتی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے بھی کسی نہ کسی بین الاقوامی قوت کا ہاتھ ہے اور یہ کہنا کہ شہریت کا قانون اقلیتوں کے خلاف ہے، مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیا کشمیر کی قانونی امتیازی حیثیت جس کو بھارتی آئین کی شقیں 370 اور 35a تحفظ فراہم کرتی تھیں کو ختم کرکے بھارت کی تمام اقلیتوں کے خلاف اقدام تھا یا کہ خالصتاً کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف بعینہ بھارت کا متنازع قانون برائے شہریت صرف اور صرف مسلمانوں ہی کے خلاف ہے کیونکہ اب تک اس قانون کے بعد سے جو ظلم و ستم مسلمانوں پر روا رکھا جا رہا ہے کسی اور اقلیت کے ساتھ نہیں روا رکھا گیا وہ تعلیمی ادارے ہوں یا ذاتی مکان سب میں بی جے پی کے کارندے گھس کر صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں کہ اگر پاکستان سے اتنی محبت ہے تو جائو پاکستان میں ہمارا کھاتے ہو اور پاکستان کا گاتے ہو مگر کسی کونے سے یہ خبر نہیں آئی کہ کسی عیسائی یا دلت کو کسی ہندو نے یہ بات نہیں کی کہ جائو برطانیہ اور جائو کسی اور ملک میں۔
یہاں یہ امر بھی بحث طلب ہے کہ حقوق نسواں کی تعریف کیا ہے ظاہر ہے ایک کافر کے نزدیک حقوق نسواں کی وہ تعریف تو نہیں ہو سکتی جو اسلام اور شریعت اسلامی میں اور خاص طور پر قران کریم میں بڑی صراحت اور تفصیل سے بیان کی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انگریز مسلم معاشرے پر حقوق نسواں کی وہ تعریف مسلط کرنا چاہتا جو کفار کی تراشیدہ ہے اور اسلام میں دیے گئے حقوق سے یکسر صرف نظر کرتا ہے بلکہ اس کے خلاف مکمل محاذ کھولا ہوا ہے کہ کسی طرح عام مسلمان خاص طور پر عورت اسلام میں دیے گئے اس کے حقوق سے بہرہ مند نہ ہونے پائے نہ صرف حقوق بلکہ حقوق کے تحفظ کا بھی ایک مکمل نظام اسلام دیتا ہے مگر چونکہ انگریز جاتے جاتے ایسے لوگوں کو پاکستان پر مسلط کرگیا ہے کہ وہ انگریز کی خوشنودی کے لیے اسی کی تعلیمی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اسلام کا مضبوط و مربوط خاندانی نظام ہی دراصل عورت کے حقوق کا ضامن ہے۔ جب کسی کے یہاں لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے تو وہ والد اپنا اولین فرض اس بچی کی مکمل دیکھ بھال صحت اور پھر بڑے ہونے پر اس کی تعلیم و تربیت اور باعزت طریقے سے اس کی شادی کر کے گھر سے رخصتی تک اپنا بھرپور کردار ادا کرتا ہے یا یوں سمجھیں کہ جب لڑکی پیدا ہوتی ہے تو باپ اس پر سایہ فگن رہتا ہے جب وہ جوان ہوتی ہے تو بھائی اس کا مان ہوتا ہے اور شادی کے بعد اس کا شوہر اس کا رکھوالا ہوتا اور جب وہ بیٹے کی ماں بنتی ہے تو مرتے دم تک بیٹے ماں کی خدمت کر کے جنت کمانے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ مغرب تو کجا روئے زمین پر موجود ہزاروں ادیان میں سے کسی میں بھی ایک عورت کی اس طرح کی حفاظت کی جھلک تک نہیں پائی جاتی۔ پھر انگریز کو کیا پڑی ہے کہ اربوں ڈالر صرف اسی مد میں خرچ کرتا پھرے کہ کسی طرح وہ مسلمان خواتین کو اپنے نظام سے بغاوت پر مجبور کردے یہاں تک شہزادیاں یہ دیکھنے آجائیں کہ پاکستان میں خواتین کو کیا کیا ’’حقوق‘‘ حاصل ہیں ظاہر ہے وہ مغربی فلسفے کے پیش نظر جن کو وہ حقوق کہتے ہیں اسی زاویے اور کسوٹی پر پرکھنے آتے ہیں کہ مغرب کے بیانیے کے مطابق کتنے حقوق خواتین کو حاصل ہیں۔ اسلام میں خواتین کو جو حقوق دیے گئے ہیں وہ کسی بھی معاشرے سے سب سے زیادہ ہیں ایک عورت اپنا کاروبار فیکٹری کارخانہ تک چلا سکتی ہے تعلیم کے شعبے میں درس و تدریس کے لیے آزاد ہے اپنے من پسند شخص سے شادی کر سکتی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ کسی بھی وجہ سے شوہر سے خلع لینے میں مکمل آزاد ہے۔ سائنس، آرٹس، انجینئرنگ، فائنانس الغرض ہر شعبے میں تعلیم حاصل کرنے میں مکمل آزاد ہے۔ حقوق کے حوالے سے انسان مرد و خواتین کے حقوق جوانی کے دائرے تک محدود ہوتے ہیں چاہے وہ کسی بھی معاشرے کے فرد ہوں بچپن اور بڑھاپے کی زندگی تو دوسروں کے مرہون منت ہوتے ہیں اب چالیس پینتالیس سال کی جوان زندگی کی بہاروں کو سہانا بنانے کے لیے کتنے حقوق درکا ہو سکتے ہیں اسلام نے وہ تمام حقوق فراہم کر دیے ہیں جو انسان سوچ سکتا ہے بلکہ اس کی سوچ سے زیادہ حقوق اس کو دے دیے گئے ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ’’جھگڑا‘‘ کیا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو اسلام اور مغرب کے بیچ وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔
اسلام جو حقوق خواتین کو دیتا ہے وہ مختصراً بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگر مزید تسلی و تشفی کسی کو درکار ہے تو وہ قران و حدیث اور تفاسیر کا مطالعہ کر سکتا ہے ہاں مغرب کے نزدیک عورت کو کیا حقوق حاصل ہیں وہ اگرچہ کہ تحریر تو ہوںگے مگر ابھی تو وہ خود اس کو حتمی کہنے سے قاصر ہیں اور گم گشتہ راہوں میں بھٹک رہے ہیں اور آئے روز حقوق نسواں کے حوالے سے نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں اور ان کے فلاسفر دانشور اور اہل حل و عقد اس گتھی کو تاحال سلجھانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مغرب میں عورت و مرد کی شادی کو ایگریمنٹ کہتے ہیں جب ایگریمنٹ پر دونوں دستخط کر دیتے ہیں تو متعلقہ عدالت کا مجاذ جج اس پر مہر تصدیق ثبت کرکے ایک نیا انسانی جوڑا تشکیل دے دیتا ہے جس کا کلیدی نکتہ مرد کے ذمے عورت کا نان نفقہ مینٹننس کا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے گھر اور تحفظ بھی اسی کی ذمے داری ہونی چاہیے لیکن مرد اس عورت سے کسی قسم کی باز پرس کرنے کا مجاذ نہیں ہوتا وہ کب گھر آتی ہے نہیں آتی اکیلے آتی ہے کہ کسی کو ساتھ لیکر آتی ہے پیسہ کہاں سے کماتی ہے شوہر کو اپنی کمائی کا حصہ بناتی ہے نہیں بناتی اور اسی طرح کے یہ اور ایسے ہی چند اور مافوق العقل ’’حقوق‘‘ کی وادی میں یہ جوڑا زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ایسے ہی لایعنی حقوق کے پیش نظر جب مرد عورت کی ایسی بے باکی خود سری کو دیکھتا رہتا ہے اور جب اس کو محسوس ہوتا ہے اس سب کے باوجود اب اس کے سوا اس عورت کو کہیں اور پناہ نہیں مل سکے گی تو فوراً اس کو طلاق دے دیتا ہے تاکہ عدالتی حکم کے مطابق اس عورت پر اٹھنے والے اخراجات سے چھٹکارا حاصل کر سکے اب عورت کے لیے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے پھر وہ ایک کٹی پتنگ کی طرح معاشرے میں اسی سابقہ شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور رہتی ہے۔ ایسے مناظر کا امریکا میں بچشم خود نظارہ کر چکا ہے۔
مغرب نے عورت کی آزادی کے نام پر خود اپنی عورت کے حقوق غصب کر رکھے ہیں حالانکہ ایک ذی روح ہونے کے ناتے ایک عورت کے انسانی حقوق میں یہ سر فہرست ہونے چاہئیں کہ اس کو ایک شوہر ایک گھر کا تحفظ دیا جائے تاکہ وہ سکون قلب کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش و نگہداشت پوری تندہی، ذمے داری اور خلوص کے ساتھ کر سکے اور جب وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھے تو وہی اولاد اس کی خدمت کو اپنے لیے سب سے بڑی سعادت خوشی سمجھے کہ کس طرح ان کی ماں نے ان کی تعلیم و تربیت کرکے ان کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا کہ آج معاشرے میں اگر ان کی کوئی حیثیت ہے تو وہ اسی ماں کی تعلیم و تربیت اور اس دوران اٹھانے والی تکالیف کی ہی مرہون منت ہے۔ لیکن مغرب کے دانشوروں سرمایہ داروں اور حکمرانوں نے عورت کو ایک معاشرتی کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا بھر کی عورت بھی اسی ڈگر پر چلے جس ڈگر پر اس نے اپنی عورت کو چلا رکھا ہے اب روئے زمین پر نہ کوئی ایسا مذہب موجود ہے اور نہ ہی کوئی معاشرہ جو مغرب کے اس تراشیدہ حقوق نسواں کے بت کو چیلنج کر سکے ماسوائے اسلام کے اور یہ بات وہ خود بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق نسواں کے بیانیے کو اگر کسی سے شدید خطرات موجود ہیں تو وہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے جہاں گود سے لیکر لحد تک عورت کو کسی نہ کسی حوالے سے مرد کا حصار موجود ہوتا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ عورت پر بری نظر ڈال سکے۔
اتنے عظیم تحفظ اور حقوق کا کیا مغرب تصور کر سکتا ہے ابھی تک مغرب جس ناکامی سے دوچار ہے وہ اسلام کے مقابلے میں کوئی ایسا نظام پیش کر سکے کہ دیگر اقوام اور خود مغرب کی عورت بھی اس کو بخوشی قبول کر لے۔ دراصل مغرب کے دانشوروں، حکمرانوں اور سرمایہ داروں کا یہ اعتراف ناکامی ہی کہ انہوں نے پوری اسلامی دنیا میں حقوق نسواں کے خلاف ایک جال تان رکھا ہے کہ اگر وہ اسلام کے مد مقابل کوئی نظام نہیں دے سکتا تو مسلم معاشرے کو ہی اپنے خود ساختہ پراگندہ نظام سے شکست دے سکے۔
باقی صفحہ7نمبر1
مظفر ربانی
اگرچہ کہ عام مسلمان مرد و خواتین دین کی تعلیم سے مکمل ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث اس جال میں آ ضرور جاتے ہیں مگر ایک حد تک وہ اس کو اپناتے ہیں مگر پھر جلد ہی محسوس کر لیتے ہیں کہ مغرب کا دیا ہوا نظام ان کے خاندانی نظام کو تباہ و برباد کر دے گا۔
اسلام ایک دین فطرت ہے جسے ایک عالم سے لیکر ایک عام مسلمان تک سب سمجھتے اور جانتے ہیں اسلام کے دین فطرت ہونے کا یہی ثبوت کافی ہے کہ مسلمانوں میں مذہب کی تبدیلی کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ جو غیر مسلم قرآن کا مطالعہ کر لیتا ہے اور پھر اسلام کا لٹریچر پڑھ لیتا ہے تو یہ بات کہنے میں ذرا نہیں ہچکچاتا کہ اس کو جو کچھ اسلام کے بارے میں منفی انداز میں بچپن سے بتایا جاتا رہا ہے وہ سب جھوٹ تھا اسلام تو کچھ اور ہی ہے جہاں ہر ایک کو اس کے حقوق کی ضمانت دی جارہی ہے ایک ربّ کی عبادت کی جاتی ہے اور دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے۔ روز محشر اس کی جوابدہی بھی ہونی ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ جو کچھ دنیاوی قوانین کے مطابق کر رہا ہے اس کی کسی نہ کسی سطح پر باز پرس نہیں ہونی ایک طالب علم کو معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ پڑھ رہا ہے اس کا امتحان بھی دینا تاکہ اس کی تعلیم کو سند حاصل ہو سکے وہ ڈاکٹر یا انجینئر کہلائے جانے کا مستحق ہو سکے صرف کتابیں پڑھ لینے سے وہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ ڈاکٹر یا انجینئر ہے دفتر میں اعلیٰ و ادنیٰ درجے پر کام کرنے والے ملازم کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کا کہیں نہ کہیں رکارڈ رکھا جا رہا ہے اور اگلے گریڈ میں ترقی اس کی کار کردگی اور جانچ پر ہی منحصر ہوگی اس لیے محشر کا برپا ہونا بھی عین فطرت کے مطابق ہے کہ جو کچھ انسان دنیا میں کر رہا ہے اس میں پاس ہونے کے لیے اس کو کہیں نہ کہیں جوابدہی کرنی ہے جس کے لیے اللہ تبارک تعالیٰ نے محشر کا امتحان رکھا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو دین مکمل طور پر دین فطرت ہے اس کا مقابلہ انسانی عقل سے تراشیدہ نظام کیسے کر سکتا ہے۔ اگر انسان کی عقل اتنی طاقتور ہوتی کہ وہ خود سے کوئی ایسا نظام تشکیل دے سکے جو ہر دور ہر طبقے اور زمین کے ہر حصے کے لیے قابل قبول ہو اور انسانی ضروریات کا کما حقہ دفاع کرسکے تو انبیاؑ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ انسان کو دین فطرت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاؑ کو مبعوث فرمایا تاکہ انسان ایک ربّ کی عبادت پر متفق ہو جائے اور اپنی دنیاوی زندگی کو اسی پیرائے میں ڈھال لے جس کا اللہ تعالیٰ انسان سے تقاضا کرتا ہے۔