آئین پرکبھی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا‘ قومی ترجیحات کا تعین ناگزیر ہے‘ سراج الحق

211
صحبت پور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ، مولانا عبدالحق ہاشمی مسجد کے افتتا ح کے موقع پر دعاکررہے ہیں

لاہور( اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملکی آئین پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوسکا ۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ۔قومی ترجیحات کے تعین کی سخت ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ موجودہ حکمرانوں نے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ کر دیاہے ۔وزیراعظم خود کو بے بس اور بے اختیار سمجھتے ہیں اور بار بار اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہیں ۔ ملک سیاسی بحران سے دوچار ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر ہر جگہ انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہے تو عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا۔ عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں جو لوگ کل تک حکومت کو موقع دینے کی بات کرتے تھے ، وہ اب حکومت سے نجات کی دعائیں کر رہے ہیں ۔ ملکی مسائل کا حل صرف قرآن و سنت کے نظام میں ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے صحبت پور جعفر آباد میں جماعت اسلامی کے دفاتر اور مدرسہ کے افتتاح کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ جعفر آباد یوسی مانجھوٹی گوٹھ علی مراد بادینی کے پورے گائوں نے عبدالمجید بادینی کی قیادت میں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک بحرانوں کی زد میں اور عوام مایوسی اور ناامیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہیں ۔ نااہل اور نالائق حکمرانوں نے لوگوں کی نیندیں اڑا دیں اور سکون غارت کردیاہے ۔ لوگ گن گن کر دن گزار رہے ہیں ۔قومی سیاست تلپٹ اور وفاق کا پورا نظام جام ہو کر رہ گیاہے ۔ حکومتی کارکردگی منفی رخ پر جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانوں کا ہر وعدہ جھوٹا اور ہر دعویٰ سراب بن چکاہے ۔ کرپشن ، لوٹ مار اور سودی قرضوں نے معیشت کی تباہی و بربادی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔معیشت کو عملاً آئی ایم ایف ، اوگرا اور نیپرا کے حوالے کردیا گیا ہے۔ معیشت کی بہتری خود انحصاری اختیار کرنے اور سودی قر ضوں سے نجات میں تھی مگر حکومت دھڑا دھڑ قرضے لے رہی ہے جس سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کا شکنجہ مزید سخت ہورہاہے ۔ حکمران خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار اور سودی قرضوں سے توبہ کرنے کو تیار نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ لوگ حکومت سے جذباتی اعلانات کی بجائے عملی اقدامات چاہتے ہیں ۔ جو حکومت اٹھارہ ماہ میں کچھ نہیں کر سکی وہ آئندہ بھی کوئی تیر نہیں ما رسکتی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی 20 فروری سے مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کر رہی ہے ۔ اس تحریک میں کروڑوں لوگوں سے رابطہ کیا جائے گا ۔ ملک بھر میں جلسے جلوس اور مظاہر ے ہوں گے ۔ عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات دلانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے ۔