لنڈے کے کپڑوں اور سویا بین سمیت دیگر کنسائن منٹس میں فیو میگیشن کے دوران میتھائل برومائڈ ( سی ایچ 3بی آرسی) گیس کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے ۔

553

کراچی (رپورٹ /محمد علی فاروق )کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس کا اخراج پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میں لنڈے کے کپڑوں ،سویا بین ودیگر کنسائن منٹس میں فیومگیشن کے دوران دنیا بھر میں ممنوع گیس کے استعمال اور اس کے لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ ،پاکستان پروگریسو فیومگیشن کارپوریشن اور وفاقی وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کی نااہلی اور زیادہ پیسے کمانے کے لالچ میں اس طرح کی گیس استعمال کرکے شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا ۔تحقیقاتی اداروںنے فیومیگیشن کمپنی کی غفلت کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور جلدذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق کیماڑی کے علاقے میں زہریلی گیس کے اخراج سے ہلاکتوں کی تعداد 14ہوگئی ہے اور اس متاثرہ افراد 300سے زائد ہیں ۔واقعہ کو 48گھنٹے گزر جانے کے باوجود اب تک حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ زہریلی گیس کس وجہ سے پھیلی ہے تاہم انتہائی باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میں لنڈنے کے کپڑوں اوردیگر کنسائن منٹس میں فیومگیشن کے لیے دنیا بھر میں ممنوع گیس میتھائل برومائڈ (سی ایچ بی آرسی) کے استعمال کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے ۔پاکستان پروگریسو فیومگیشن کاپوریشن جو کراچی کی ایک کمپنی ہے اس کے پاس کنٹینرزپر فیومگیشن کا ٹھیکہ ہے ۔

مذکورہ کمپنی نے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے کھلے میدان میں فیومگیشن کا عمل کیا جہاں گیس کے لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ خطرناک گیس علاقے میں پھیل گئی ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں فیومگیشن کا عمل کرائے لیکن اس حوالے سے غفلت برتی گئی اور غیر ذمہ دارانہ طریقے سے فیومگیشن کی گئی ۔ذرائع نے بتایا کہ فیومیگیشن کے لیے گیس کا استعمال انتہائی خطرناک ہے اور اس کے لیے باحفاظت طریقہ فورسین ٹیبلٹ کا استعمال ہے ۔میتھائل برومائڈ(سی آیچ بی آر سی) چین اور امریکا سے درآمدکی جاتی ہے اور 2015میں اس گیس کو پاکستان میں ممنوع کرنے کی سفارش کی گئی تھی لیکن پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے مالی مفادات کے لیے اس معاملے کو 2030تک موخر کردیا ہے ۔

پاکستان پروگریسو فیومگیشن کارپوریشن کے بارے میں علم ہوا ہے کہ یہ کمپنی ماضی میں بھی مالی خورد برد اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث پائی گئی ہے تاہم پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی سرپرستی کی وجہ سے اس کے خلاف کبھی بھی کوئی کارروائی عمل نہیں آسکی ہے ۔ادھر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحقیقاتی اداروںنے واقعہ کے اصل ذمہ داروں تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل سے بھی شواہد حاصل کرناشروع کردیئے ہیں ۔تحقیقاتی ادارے فیومیگیشن کمپنی کی غفلت کے حوالے سے بھی تحقیقات کررہے ہیں اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ جلد ہی حقائق سامنے آجائیں گے اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔