افغان مسائل کا حل افغانستان ہی میں ہے،اقوام متحدہ

274
اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس افغان مہاجرین کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان و دیگر بھی موجود ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام مسائل کا حل افغان سرزمین ہی سے ممکن ہے۔اسلام آباد میں افغان مہاجرین سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تبدیل کی جاسکتی ہیں،عالمی برادری افغان مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اوراس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں، 40 سال سے افغان عوام مسائل کا شکارہیں۔ اپنی تقریر کے دوران انتونیوگوتریس نے سورہ توبہ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو، قرآن کریم میں پناہ سے متعلق بہت واضح طور پر بات کی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی فراخ دلی دہائیوں پرمحیط ہے،پاکستان دنیا میں مہاجرین کا دوسرا بڑا میزبان ملک ہے،پاکستان میں افغان مہاجرین کی میزبانی برادارنہ تعلقات اور قربانی پر مبنی ہے، پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لیے مثبت اقدامات کیے اورافغان مہاجرین کے لیے40 سال اپنے دروازے کھلے رکھے۔ سیکرٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ افغان مہاجرین کے لیے عالمی امدادبہت اہمیت رکھتی ہے لیکن پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں عالمی تعاون بہت کم رہا۔ علاوہ ازیں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں ‘’امن مشنز میں پاکستان کے کردار’’ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان امن کے لیے اہم ترین کام کر رہا ہے، مجھے فخر ہے کہ میں امن مشنز کے جوانوں کا ساتھی ہوں، امن مشنز میں 157 جوانوں نے شہادت پائی۔انتونیو گوتریس نے کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ امن مشنز کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ پاکستان افسران امن مشنز میں فرسٹ کمانڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں، پاکستان کے ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد جوانوں نے امن مشنز کے لیے کام کیا۔ پاکستانی افواج، پولیس اور سویلین کا عزم امن مشنز کے لیے شاندار ہے۔نسٹ میں منعقدہ تقریب کے دوران امن مشنز کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔