دعا کے قرآنی اور نبوی تصور پر یاسر پیرزادہ کا حملہ آخری حصہ

615

امام غزالی نے احیا العلوم میں سیدنا عیسیٰؑ کی ایک دعا کا حوالہ دیا ہے۔ جس کا ایک حصہ یہ ہے۔
’’اے اللہ میں ایسا ہوں کہ جو بات مجھے بُری لگے میں اسے دور نہیں کرسکتا اور جس چیز کی اُمید کرتا ہوں اس سے نفع حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں۔ کوئی محتاج مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اے اللہ میرے دشمنوں کو مجھ پر خوش ہونے کا موقع نہ دے اور میری طرف سے میرے دوست کو تکلیف میں مبتلا نہ کر‘‘۔
یہ حقیقت عیاں ہے سیدنا عیسیٰؑ کی یہ پوری دعا دنیاوی زندگی سے متعلق ہے اخروی زندگی سے متعلق نہیں۔
امام غزالی نے سیدنا ابوبکرؓ کی ایک دعا بھی لکھی ہے۔ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ یہ ہے۔
’’مجھے قرآن پاک کا علم عطا فرما، اس کو میرے گوشت، میری خون، میرے کان اور میری آنکھ میں ملا دے اور اس کے مطابق میرے جسم کو استعمال کر‘‘۔
امام غزالی نے سیدنا بریدئہ الاسلمیٰؓ کی ایک دعا بھی پیش کی ہے۔ جو یہ ہے۔
(1) اے اللہ میں کمزور ہوں اپنی رضا سے میری کمزوری کو قوت عطا کر۔ مجھ کو خیر کی طرف بلا اور اسلام کو میری رضا کی انتہا قرار دے، اے اللہ میں کمزور ہوں مجھے طاقت عطا کر۔ میں ذلیل ہوں مجھے عزت دے میں تنگ دست ہوں مجھے مالدار بنا‘‘۔
امام غزالی نے ممتاز صوفی معروف کرخی کی ایک دعا کا حوالہ دیا ہے۔ اس کا ایک فقرہ یہ ہے۔
’’کیا میں تمہیں دس کلمات نہ سکھا دوں جن میں سے پانچ کا تعلق دنیا اور پانچ کا تعلق آخرت سے ہے‘‘۔
امام غزالی نے ’’احیا‘‘ میں مختلف مواقع کے لیے سکھائی گئی دعائیں تحریر کی ہیں۔ ان دعائوں کے عنوانات یہ ہیں۔ (1) گھر سے نکلتے وقت کی دعا (2) مسجد کے دروازے پر پہنچنے کی دعا (3) فجر کی سنتوں کے بعد کی دعا (4) رکوع کی دعا (5) رکوع سے اُٹھتے ہوئے کی دعا (6) مسجد سے نکلتے وقت کی دعا (7) نماز کے بعد کی دعا (8) مجلس سے اُٹھتے وقت کی دعا (9) بازار میں داخل ہونے کی دعا (10)ادائے قرض کے وقت کی دعا (11) نیا کپڑا پہنتے ہوئے کی دعا کرے (12) جب کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے (13) چاند دیکھنے کی دعا (14) جب آندھی چلے (15) کسی کے مرنے کی خبر سن کر کی جانے والی دعا (16) صدقہ دیتے وقت کی دعا (17) اگر نقصان ہوجائے (18) کام شروع کرتے وقت کی دعا (19) آسمان کی طرف دیکھنے کے وقت کی دعا (20) بجلی کی کڑک سن کر (21) اگر بجلی کی کڑک زیادہ ہو (22) جب بارش ہو (23) غصے کے وقت کی دعا (24) اگر دشمن کا ڈر ہو (25) جہاد کے موقع پر (26) اگر کان بجنے لگیں (27) دعا کی قبولیت کے موقع پر (28) اگر دعا کی قبولیت میں تاخیر ہوجائے (29) مغرب کی اذان سن کر (30) جب کوئی تردد پیش آئے (31)بدن میں تکلیف ہو یا زخم ہوجائے (32) مصیبت کے وقت (33) نیند کے وقت کی دعا (34) نیند سے بیدار ہونے کے بعد کی دعا (35) شام کے وقت کی دعا (36) آئینہ دیکھ کر کی جانے والی دعا (37) غلام اور جانور خریدتے وقت کی دعا (38) نکاح کے وقت کی دعا (39) قرض ادا کرتے ہوئے۔
جیسا کہ ظاہر ہے یہ تمام دعائیں دنیا ہی سے متعلق ہیں چناں چہ یہ دعائیں دنیا ہی کو بدلتی ہیں۔ ان دعائوں کی ہمہ گیری اور ہمہ جہتی بتارہی ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی دعا سے شروع ہوتی ہے۔ دعا میں بسر ہوتی ہے اور دعا میں ختم ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یاسر پیرزادہ نے اپنی جہالت سے دعا کے پورے قرآنی اور نبوی تصور کی توہین کر ڈالی ہے۔
امام غزالی نے دعا سے متعلق باب میں دعا کی حکمت پر بھی مختصر گفتگو کی ہے۔ لکھتے ہیں۔
’’بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا سے بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ حکم الٰہی اٹل فیصلہ ہے ہماری دعائوں سے کیسے ٹل سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کے ذریعے مصائب کا خاتمہ اور رحمت کا حصول بھی خدا ہی کا فیصلہ ہے۔ جس طرح ڈھال تیر روک لیتی ہے۔ پانی دینے سے زمین کشت زار بن جاتی ہے اسی طرح دعا بھی نزول رحمت کا سبب ہوتی ہے۔ تیر اور ڈھال کی طرح دعا اور بلا میں مقابلہ ہوتا ہے۔ لیکن حکم الٰہی اور قضا و قدر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دشمنوں کے مقابلے سے یہ کہہ کر گریز کیا جائے کہ جو ہونا ہے ہو کر رہے گا۔ کشت و خون سے کیا فائدہ۔ یا زمین میں بیج ڈال کر پانی نہ دے اور کہے کہ قسمت میں ہوا بیج اُگے گا، پانی دینے سے کیا حاصل۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ وخُذُو حذِرَکم۔ یعنی ’’اپنا بچائو کرو‘‘۔
مذہب کی دنیاوی معاملات سے علیحدگی کی بات ایک ’’سیکولر خیال‘‘ ہے مگر یاسر پیرزادہ نے اسے اس طرح پیش کیا ہے جیسے یہ کوئی ’’مذہبی آئیڈیا‘‘ ہو۔ ارے بھائی اگر مذہب دنیا سے متعلق ہی نہیں ہے تو پھر مذہب کی ضرورت ہی کیا ہے۔ عیسائی سیدنا عیسیٰؑ سے یہ قول منسوب کرتے ہیں کہ میری سلطنت آسمان پر ہے۔ مگر رسول اکرمؐ نے تو عملاً دنیا میں ’’اسلامی ریاست‘‘ قائم کرکے دکھائی جو رسول اکرمؐ کے دنیا سے رخصت ہونے کے 29 سال بعد تک اپنی اصل حالت میں کام کرتی رہی مگر یاسر پیرزادہ اس طرح کلام کررہے ہیں جیسے رسول اکرمؐ کا ریاست و سیاست، معیشت و معاشرت، جنگ و امن سے کوئی تعلق ہی نہ رہا ہو۔ یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ اگر دنیا مذہب کے اصولوں پر چلتی تو دنیا میں کہیں ناانصافی نہ ہوتی، کہیں کوئی بھوکا نہ ہوتا۔ ہم سب یہ بنائے علم جانتے ہیں کہ عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ میں عملاً یہ ہوچکا ہے اسی لیے دنیا کو ایک بار پھر عہد رسالتؐ اور عہد خلافت کے تجربے کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ رہا یہ سوال کہ لوگ زلزلے سے مرجاتے ہیں اور اپاہیج پیدا ہوتے ہیں تو یہ کوئی شرعی معاملہ نہیں یہ ایک تکوین چیز ہے اور تکوینی کا علم اللہ تعالیٰ نے انبیاتک کو نہیں دیا۔ سیدنا موسیٰؑ اور خضرؑ کے قصے سے یہ بات پوری طرح آشکار ہے۔ یاسر پیرزادہ یہ قصہ قرآن مجید میں خود پڑھ لیں۔ بلاشبہ دنیا میں طاقت کا اصول موجود ہے اور اسلام طاقت کے اس اصول کو ایک حد تک تسلیم کرتا ہے۔ چناں چہ مسلمانوں کو قرآن میں حکم ہے کہ دشمنوں سے مقابلے کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھیں۔ کل گھوڑوں کا مطلب گھوڑا تھا آج ٹینک، طیارے، میزائل، سیٹلائٹ، ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہے۔ مسلمانوں کو اس سلسلے میں واقعتا محنت کرنی چاہیے۔ لیکن اسلام جسمانی اور عسکری طاقت سے کہیں زیادہ روحانی اور اخلاقی طاقت پر اصرار کرتا ہے۔ اقبال نے ان طاقتوں کے نتیجے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اتفاق سے 20ویں اور 21 ویں صدی میں مومنوں نے افغانستان میں ’’بے تیغ‘‘ ہونے کے باوجود سوویت یونین اور امریکا کی مٹی پلید کرکے دکھادی۔